Complete Urdu Notes
Click on the Heading panel to open and close it.
اسے کھولنے اور بند کرنے کے لیے ہیڈنگ پینل پر کلک کریں۔
دُنیا کے مختلف خطوں میں بہت ہی مختلف قسم کی قومیں آباد ہیں۔ان اقوام کے لوگوں کا رہن سہن ،
پہناوا، سومات اورزبان و بیان میں بڑے اختلافات ہیں۔دُنیا کے مختلف مقامات پر بہت ہی الگ الگ قسم کی زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ یہ تمام زبانیں ایک دوسرے سے بہت ہی مختلف نظر آتی ہیں مگر صوتی اور لسانیاتی اعتبار سے ان سبھی زبانوں میں مماثلت پائی جاتی ہے
اور یہ مماثلت ان زبانوں کی باہمی رشتہ داری اور تعلق کی نشان دہی کرتی ہے۔ انہیں باہمی تعلقات کی بنیاد پر ماہرِ لسانیات نے زبانوں کی گروہ بندی کی تاکہ زبانوں کے باہمی تعلقات، ان کی پیدائش اور ارتقاء کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔
لسانیات اس علم کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ سے
زبان کی ماہیت ، تشکیل، ارتقا، زندگی اور وفات کے متعلق آگاہی حاصل ہوتی ہے۔فرانس کا مشہور فاضل ای۔گوبلو پہلا شخص ہے جس نے کتاب ’’ تقسیم علوم‘‘ (مورخہ ۱۸۹۸ء) میں اس علم کی کماحقہ تعریف کی اور اس کی اہمیت پر بحث کی۔
زبانوں کی صوتی اور لسانیاتی یکسانیت کی بنیاد پر انہیں ماہر لسانیات نے مختلف لسانی خاندانوں میں بانٹا ہے اور پھر ہر ایک
خاندان کی زبانوں کی گروہ بندی کی گئی ۔زبانوں کے تقابلی مطالعہ کے ذریعہ ، زبانوں کے لسانی تعلقات کی تحقیق سب سے پہلے سر ولیم جونز نے کی ۔ولیم جونز یونانی، لاطینی، اسپینی، پرتگالی، اطالوی ، فرانسیسی، عربی، فارسی اور سنسکرت
زبانیں جانتے تھے۔انہوں نے اپنے مطالعہ میں پایا کہ قدیم یوروپین زبانوں میں بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔انہوں نے اپنی اس دریافت کو ایک تحقیقی مقالے میں ۲۷ ستمبر (۱۷۸۶ء) کو رائل ایشیاٹک سوسائٹی ، کلکتہ کے ایک اجلاس میں پیش کیا۔
سر ولیم جونز کے مطابق سنسکرت، یونانی،لاطینی، اور جرمانک زبانیں اپنی ساخت کے اعتبار سے باہم بے
حد یکسانیت رکھتی ہیں ۔ یہ مماثلتیں اتنی گہری ہیں کہ یہ یقین کرنا پڑیگا کہ انکا ماخذ ایک ہی ہے اور انکا ار ہیں۔انہوں نے اپنی اس دریافت کو ایک تحقیقی مقالے میں ۲۷ ستمبر (۱۷۸۶ء) کو رائل ایشیاٹک سوسائٹی ، کلکتہ کے ایک اجلاس میں پیش کیا۔
سر ولیم جونز کے مطابق سنسکرت، یونانی،لاطینی، اور جرمانک زبانیں اپنی ساخت کے اعتبار سے باہم بے حد یکسانیت رکھتی ہیں ۔ یہ مماثلتیں اتنی گہری ہیں کہ
یہ یقین کرنا پڑیگا کہ انکا ماخذ ایک ہی ہے اور انکا ارتقا کسی ایک مشترک ماخذ سے ہی ہوا ہے۔امریکہ کے ماہر لسانیات ونفریڈ پی لیح مین نے دنیا میں رائج تمام زبانوں کو، انکی نسلی بنیادوں کے اعتبار سے درجہ بندی کرکے سات خاندانوں میں تقسیم کیا ہے۔
دنیا کے لسانی خاندان
(۱) ہند یوروپی
(۲) افریقی ایشیائی
(۳) چینی تبّتی
(۴) الطائی
(۵) دراویڈی
(۶) آسٹرو ایشیائی
(۷) فینو گریک
اردو زبان کے ارتقا کا تعلق ہند یوروپی خاندان سے ہے اس لئے ہم اس خاندان کی تفصیل جانتے ہیں۔ ہند یوروپی خاندان کی زبانیں ہندوستان، پاکستان، ایران، افغانستان، بنگلا دیش، شری لنکا، نیپال اور روس کے علاوہ یوروپ کے تمام ممالک میں بولی جاتی ہیں۔ یہ خاندان دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے اہم لسانی خاندان ہے ۔ہند یوروپی خاندان کی گیارہ شاخیں ہیں۔ (۱) کلٹک (۲) جرمانک (۳) لاطینی (۴) یونانی (۵) البانیائی (۶) بالٹک (۷) سلاوی (۸) اناطولیائی (۹) آرمینیائی (۱۰) ہند ایرانی ، ایرانی ، ہند آریائی (۱۱) تخاری
ہند آریائی ، ہند یوروپی خاندان کی ایک بہت ہی اہم شاخ ہے جس کا ارتقا ہندوستان میں ہوا ۔اس زبان کے بولنے والے لوگ ہند کے آریا تھے اس لئے اس کا نام ہند آریائی پڑا۔یہ زبانیں ہندو پاک، بنگلادیش، شری لنکا اور نیپال میں رائج ہیں۔ ایران سے جب آریا قوم ہندوستان آئی تو ان کی زبان پر ایرانی زبان کا اثر تھا مگر ہندوستان میں مقیم ہو جانے کے بعد انکی زبان کا روپ بھی تبدیل ہونے لگا اور دھیرے دھیرے یہ ایرانی سے ہند آریائی سانچے میں ڈھلتی چلی گئی موٹے طور پر اس بدلائو کو تین ادوار میں بانٹ کر دیکھا جا سکتا ہے ۔ (۱) قدیم ہند آریائی (الف) ویدک سنسکرت (ب) کلاسیکی سنسکرت (ج) سنسکرت کی علاقائی بولیاں (۲) وسطی ہند آریائی (الف) پراکرت (ب) اپبھرنشویدک (۳) جدید ہند آریائی (الف) بیرونی زبانیں (ب) وسطی زبانیں (ج)اندرونی زبانیں (د) پہاڑی بولیاں (۱) قدیم ہند آریائی ہند آریائی کا قدیم دور ۱۵۰۰ ق م تا ۵۰۰ ق م تک ایک ہزار سال کا لمبا دور ہے۔محی الدین قادری زور کے بمطابق ویدک بھجنوں کے زمانۂ تصنیف ( جو ممکن ہے ۱۵۰۰ ق م سے ۱۲۰۰ قم ہو) سے گوتم بدھ ( ۵۷۷ ۔ ۴۷۷ ق م ) کے عہد تک کے درمیانی دور کو ’’قدیم ہند آریائی دور ‘‘ کہ سکتے ہیں۔ یہ سنسکرت زبان کا دور ہے ۔ اس لمبے دور میں سنسکرت کی تین مختلف شکلیں خصوصی طور پر سامنے آتی ہیں۔ (الف) ویدک سنسکرت : قدیم ہند آریائی دور میں ہندوستان میں شمال مغرب تا مشرق جس زبان نے ارتقا پایا وہ سنسکرت زبان تھی۔ سنسکرت کے سب سے قدیم نمونے ہمیں ہندوستان کی مشہور مذہبی کتابوں یعنیٰ ویدوں میں نظر آتے ہیں اس لئے اسے ـ’ویدک سنسکرت‘ کہتے ہیں۔ویدوں کے بعد کہ سکتے ہیں۔ یہ سنسکرت زبان کا دور ہے ۔ اس لمبے دور میں سنسکرت کی تین مختلف شکلیں خصوصی طور پر سامنے آتی ہیں۔ (الف) ویدک سنسکرت : قدیم ہند آریائی دور میں ہندوستان میں شمال مغرب تا مشرق جس زبان نے ارتقا پایا وہ سنسکرت زبان تھی۔ سنسکرت کے سب سے قدیم نمونے ہمیں ہندوستان کی مشہور مذہبی کتابوں یعنیٰ ویدوں میں نظر آتے ہیں اس لئے اسے ـ’ویدک سنسکرت‘ کہتے ہیں۔ویدوں کے بعد دیگر مذہبی کتابیں جیسے براہمنیںاور اپنشدیں بھی اسی ویدک سنسکرت میں لکھی گئیں۔ (ب) کلاسیکی سنسکرت : ویدک سنسکرت کے بعد سنسکرت کی ادبی شکل کا ارتقا عمل میں آیا جسے دیریندر ورما مصنوعی یا ادبی زبان کہتے ہیں ۔ مہابھارت اور راماین جیسی کلاسیکل تصانیف کی تخلیق اسی سنسکرت زبان میں ہوئی تھی لہٰذا اسے کلاسیکی سنسکرت بھی کہا جاتا ہے۔ صوتی اور قواعدی اعتبار سے ویدک سنسکرت کلاسیکی سنسکرت سے مختلف ہے۔ (ج) سنسکرت کی علاقائی بولیاں : آریا لوگ داخلۂ ہند کے بعد جیسے جیسے شمال مغرب سے مشرق کی جانب بڑھتے گئے ، سنسکرت کی مرکزیت ختم ہوتی گئی اور اس کا ایک معیار پر قائم رہنا مشکل ہو گیا۔ نیز مقامی بولیوں کے ساتھ باہم میل جول کی وجہ سے اس کی تین علاقائی شکلیں قائم ہو گئیں جنھیں ادیچیہ، پراچیہ اور مدھیہ دیشہ کہتے ہیں۔ ان بولیوں کا تعلق عوام الناس سے تھا ، کیونکہ سنسکرت اپنے اصلی روپ میں ادبی اور مرصع بن چکی تھی۔ (۱) ادیچیہ : یہ شمال مغربی خطے میں رائج آریوں کی ایک معیاری بولی تصوّر کی جاتی ہے۔ ان علاقوں میں آج کل سندھی اور مغربی پنجابی بولیاں بولی جاتی ہیں۔اس بولی میں ’ل‘ کی جگہ بھی ’ر‘ کا ہی استعمال کیا جاتا تھا۔ (۲) پراچیہ : یہ غیر معیاری بولی تھی جس میں آوازوں کا تلفظ بگاڑ دیا گیا تھا اور اس کا چلن مشرق میں تھا ۔موجودہ اودھ، مشرقی یو پی، بہار ، بنگال اور اڑیسہ اس کے زیر اثر علاقے تھے۔مسعود حسین خاں کے مطابق ’’ مغربی ہندوستان کے آریا ان پراچیہ بھاشا بولنے والے لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے اور انھیں اَسوُروں کی نسل سے تعبیر کرتے تھے۔{ FR 3928 } (۳) مدھیہ دیشہ : ادیچیہ اور پراچیہ کے درمیانی علاقوں کی بولی کو مدھیہ دیشہ کہا جاتا ہے۔معیاری اعتبار س یہ بولی ان دونوں بولیوں کے بیچ کی بولی کہی جا سکتی ہے کیونکہ یہ نہ تو ادیچیہ کی طرح بہت معیاری زبان تھی اور نہ ہی پراچیہ کی طرح بالکل غیر معیاری ۔اس میں ’ر‘ اور ’ل‘ دونوں کی آوازیں موجود تھیں۔ مدھیہ دیشہ کا علاقہ وہی ہے جہاں آجکل مغربی ہندی کی بولیاں( کھڑی بولی، برج بھاشا، ہریانوی، بندیلی اور قنوجی ) بولی جاتی ہیں۔ (۲) وسطی ہند آریائی (پراکرت ) ۵۰۰ ق م سے ۱۰۰۰ سنہِ عیسوی تک کا دور وسطی ہند آریائی زبانوں کے ارتقا کا دور ہے۔سنسکرت کو مذہبی تقدس حاصل ہو جانے کی وجہ سے یہ پنڈتوں اور پروہتوں کے تصرف میں آ چکی تھی جس کی وجہ سے سماج کے اعلیٰ طبقے کی اس زبان پر اجارہ داری قائم ہو چکی تھی اورعوام الناس کے لئے ممنوع قرار دے دی گئی تھی۔ عوام الناس سے سنسکرت کی یہ دوری اس کے لئے مضر ثابت ہوئی اور اس زبان کا دائرہ کم ہوتا چلا گیا ۔ سنسکرت کے زوال کے بعد جس نئی عوامی زبان کا ظہور ہوتا ہے اسے پراکرت کہا جاتا ہے۔ پراکرت کوئی الگ زبان نہیں تھی بلکہ سنسکرت کی بدلی ہوئی یا یوں کہا جائے بگڑی ہوئی عوامی شکل تھی اور ’’پراکرتک جائے بگڑی ہوئی عوامی شکل تھی اور ’’پراکرتک طریقے ‘‘ یعنیٰ قدرتی یا فطری طور پر عوام الناس کی بول چال کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی لہٰذا اس کا نام پراکرت پڑا۔ سہل اور سادہ ہونے کی وجہ سے یہ عوام میں بے حد مقبول ہوئی۔اس وسطی ہند آریائی دور میں پراکرتوں کی تین خصوصی شکلوں کا ارتقا عمل میں آیا جنہیں پہلی، دوسری اور تیسری پراکرت کہا جاتا ہے۔ (۱) پہلی پراکرت : یہ ابتدائی پراکرت کہلاتی ہے جس میں پالی بھاشا اور اشوک کے کتبوں کی زبان شامل ہے۔ (الف) پالی : پالی بنیادی طور پر مگدھ (بہار) کی زبان تھی جہاں بعد کے دور میں ماگدھی پراکرت کا ارتقا عمل میں آیا۔پالی اور ماگدھی میں گہری لسانیاتی مماثلتیں پائی جاتی ہیں ۔ بعض عالموں کا ماننا ہےکہ گوتم بدھ پالی زبان بولتے تھے اور اسی زبان کو بدھ مذہب کی تعلیم و تبلیغ کا ذریعہ بنایا جبکہ کچھ عالموں کے مطابق ان کے وقت میں ماگدھی کا ارتقا ہو چکا تھا اور یہی انکی زبان تھی۔پالی بھاشا بودھ بھکشوئوں کے ذریعہ ہندوستان کے مختلف مقامات کے علاوہ سری لنکا ، برما اور تھائی لینڈ تک جا پہنچی۔بدھ مذہب کی مستند تصانیف ’دھمپد‘ پالی زبان میں ہی لکھی گئی ہے۔ (ب) اشوک کے کتبوں کی زبان : اشوک کا زمانہ گوتم بدھ کی وفات کے ڈھائی سو سال بعد یعنیٰ تقریباً ۲۳۰ ق م مانا گیا ہے۔اشوک نے مہاتما بدھ کی تعلیمات اور اپنے سیاسی اصولوں کو لاٹ کی شکل میں اپنی سلطنت میں مختلف مقامات پر نصب کروایا تھا۔ہندوستان میں لکھنے کا رواج باضابطہ طور پر اشوک کے زمانے میںہی شروع ہوا تھا اس س پہلے لوگ مذہبی منتروں اور اشلوکوں کو یاد کرکے نسل در نسل پہنچایا کرتے تھے۔اشوک کے کتبے دو طرح کے رسم الخط میں ملتے ہیں ۔ دائیں جانب سے بائیں جانب لکھی جانے والی لپی یا رسم الخط کو کھروشٹھی اور بائیں جانب سے دائیں جانب لکھی جانے والی لِپی یا رسم الخط کو برہمی لِپی کہا جاتا ہے۔ (۲) دوسری پراکرت : ۱ ق م سے ۵۰۰ سنہ عیسوی تک پراکرتیں ادیچیہ، پراچیہ اور مدھیہ دیشہ کے تمام علاقوں میں پھلتی پھولتی رہیں حالانکہ ان پراکرتوں میں علاقائی فرق پایا جاتا تھا جس کی ابتداء اشوک کے زمانے سے شروع ہو گئی تھی ۔ پراکرت جو عوام کی زبان تھی رفتہ رفتہ اس میں ادب کی تخلیق ہونے لگی اور یہ ایک ادبی زبان بن گئی۔اسی لئے ہند آریائی کا دوسرا دور ادبی پراکرتوں کا دور کہلاتا ہے۔اِس زبان کا استعمال اُس دور کے سنسکرت ناٹکوں میں دیکھنے کو ملتا ہے جن میں عورتوں اور نچلے طبقے کے کردار پراکرت بولتے نظر آتے ہیں۔ ۵۰۰ سنہ عیسوی کے آخر میں پراکرتوں کی جگہ ایک نئی زبان لینے لگی تھی جس اپبھرنش کہا جاتا ہے۔ پراکرتوں میں پائے جانے والے علاقائی فرق کی بنیاد پر ماہر لسانیات نے پراکرتوں کی پانچ قسمیں بیان کی ہیں۔ (الف) شورسینی پراکرت : شورسینی پراکرت شورسین علاقے کی زبان تھی جو مدھیہ دیشہ کا علاقہ تھا اور جس کا مرکز اُتّر پردیش کا متھرا شہر تھا۔یہ زبان سنسکرت سے بہت قریب تھی اور اسی لئے سنسکرت کے بعد اسے معاشرے میں وقعت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ اسی شورسینی پراکرت سے ’شورسینی اپبھرنش‘ نکلتی ہے جس کے خمیر سے دہلی اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں کئی بولیاں ظہور پزیر ہوتی ہیں اور جن کے بطن سے اردو کا خمیر تیار ہوتا ہے۔ (ب) ماگدھی پراکرت : جنوبی بہار کے مگدھ علاقے کی زبان کو ماگدھی پراکرت کہا جاتا ہے۔ یہ پراچیہ بولی کا علاقہ ہے۔ ماگدھی پراکرت میں ـ’ر‘ کی جگہ ’ل‘ بولا جاتا تھا ۔ یہ ایک غیر مہذب زبان تسلیم کی جاتی تھی جو نچلے طبقے کے لوگ استعمال کیا کرتے تھے۔ (ج) اردھ ماگدھی پراکرت : یہ ایک مہذب زبان مانی جاتی تھی کیونکہ یہ مانا جاتا ہے کہ مہاویر جین نے اسی زبان میں جین مذہب کی تعلیمات کو عام کیا۔اس زبان کا علاقہ بہار اور الٰہ آباد کے بیچ کا ہے جہاں کے شاہی گھرانوں میں بھی اسی زبان کا استعمال کیا جاتا تھا۔ (د) مہاراشٹری پراکرت : مہاراشٹرعلاقے کی پراکرت کو مہاراشٹری پراکرت کہا گیا ہے جو کہ بقیہ پراکرتوں کے مقابلے میں زیادہ ادبی اور ترقی یافتہ مانی جاتی تھی ۔ (ہ) پیشاچی پراکرت : کشمیر اور پنجاب میں بولی جانے والی پراکرت کو پیشاچی پراکرت کہا گیا ہے۔ (۳) تیسری پراکرت یا اپ بھرنش : دوسری پراکرتوں میں بدلائو سے زبان کی ایک نئی شکل کا جنم ہوا جسے اپ بھرنش کہا جاتا ہے۔ دوسرے دور کی پراکرت زبانیں اپنے عروج کو پہنچ گئیں اور عوام الناس نے پراکرت کے الفاظ کو بھی اپنی سہولت کے حساب سے انہیں بگاڑ کر بولنا شروع کر دیا تو ایک عرصے کے بعد الفاظ کے یہ بگڑے ہوئے روپ عوام میں مقبول اور عام ہو گئے ۔ زبان کے اس بدلے(بگڑے) ہوئے روپ کا نام ہی ’اپ بھرنش‘ پڑا کیونکہ اپ بھرنش کے معنیٰ ہوتے ہیں ’ بھرشٹ یا بگڑا ہوا‘۔ اپ بھرنش کا زمانہ ۵۰۰ ق م سے ۱۰۰۰ سنہِ عیسوی تک مانا جاتا ہے۔اپ بھرنشیں دور دراز کے علاقوں تک بولی جانے والی زبانیں تھیں۔ یہ پنجاب سے لے کر راجستھان اور راجستھان سے لے کر بنگال تک کے وسیع علاقے میں پھیلی ہوئی تھیں۔ اپ بھرنشوں کا ادب جو آج بھی دستیاب ہے بے شمار مقامات پر تخلیق کیا گیا تھا جیسے کہ راجستھان، گجرات، شمال مغربی ہندوستان، بندیل کھنڈ، بنگال وغیرہ۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ دسویں صدی عیسوی کے اختتام تک اپ بھرنشیں پورے شمالی ہندوستان میں مغرب تا مشرق پھیل چکی تھیں۔ مارکنڈے نے اپ بھرنش کو تین قسموں میں بانٹا ہے۔ ناگر، اَپ ناگر اور براچڈ جبکہ جی ۔وی نگارے نے علاقائی بنیاد پر انہیں مشرقی، مغربی اور جنوبی اپ بھرنش میں تقسیم کیا ہے۔ زیادہ تر ماہر لسانیات نے اپ بھرنش کی مندرجہ ذیل قسمیں بیان کی ہیں۔ (۱) شورسینی اپ بھرنش : شورسینی پراکرت کے بطن سے پیدا ہونے کی وجہ سے اسے شورسینی ااپبھرنش کہا جاتا ہے اور اس کا علاقہ بھی وہی ہے جو شورسینی پراکرت کا علاقہ تھا۔ اسی شورسینی اپ بھرنش سے کھڑی بولی، راجستھانی، پنجابی، گجراتی، ہریانوی، برج، بندیلی اور قنوجی کا ارتقا ہوا ہے۔گریر سن نے کھڑی بولی ، برج، ہریانوی بندیلی اور قنوجی کو ایک ہی گروپ میں رکھ کر انہیں ’ مغربی ہندی ‘کا نام دیا۔مغربی ہندی کی بولیاں ہی دراصل اردو کے آغاز و ارتقا کے لئے ذمہ دار مانی جاتی ہیں۔ (۲) ماگدھی اپبھرنش : ماگدھی پراکرت سے ماگدھی اپ بھرنش کا ارتقا ہوتا ہے جس سے بعد کے دور میں بنگالی، آسامی، اُڑیا اور بہار کی بولیاں جنم لیتی ہیں جو مشرقی ہندوستان کے ایک وسیع علاقے میں بولی جاتی ہیں جن میں آسام ، بنگال ، اُڑیسہ اور بہار شامل ہیں ۔بہاری بولیوں میں میتھلی، مگہی، اور بھوجپوری کو ایک گروپ میں رکھ کر جارج گریر سن نے انہیں ’بہاری بولیوں‘ کا نام دیا ہے۔ (۳) اردھ ماگدھی اپ بھرنش : اردھ ماگدھی پراکرت کے علاقے میں، اردھ ماگدھی پراکرت سے ان بولیوں کا جنم ہوتا ہے جنہیں مشرقی ہندی کی بولیاں بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں اودھی، بگھیلی اور چھتیس گڑھی شامل ہیں۔ (۴) مہاراشٹری اپ بھرنش : اس کا جنم مہاراشٹری اپ بھرنش سے مہاراشٹر کے علاقے میں ہوا ۔اس کے بطن سے مراٹھی کا جنم ہوا۔ (۵) شمال مغربی اپ بھرنش : اس اپ بھرنش سے سندھ کے علاقے میں سندھی اور پنجاب کے مغربی علاقے میں مغربی پنجابی کا جنم ہوا۔ (۳) جدید ہند آریائی ۱۰۰۰ سنہ عیسوی تک اپبھرنش کا زمانہ پورا ہونے لگتا ہے اور پورے ہندوستان میں طرح طرح کی نئی بولیاں ان اپ بھرنشوں کی بنیاد پر پھیلنے لگتی ہیں۔ اسی دور میں مسلمانوں کی آمد اور انکی فتوحات پھر مسلسل طور پر ہندوستان میں رہائش اختیار کر لینے کے سبب ملک بھر کی بولیوں پر اس کے اثرات نظر آنے شروع ہو جاتے ہیں اور زبانوں میں قابل قدر تغیرات نمودار ہونے لگتے ہیں زبانوں کا یہی دور جدید ہند آریائی دور کہلاتا ہے۔جارج گریر سن نے جدید ہند آریائی زبانوں کی گروہ بندی کی ہے جو درج ذیل ہے۔ (الف) بیرونی زبانیں : (۱) شمال مغربی شاخ : لہندا( مغربی پنجابی) ، سندھی (۲) جنوبی شاخ : مراٹھی (۳) مشرقی شاخ : آسامی، بنگالی، اُڑیا، بہاری بولیاں ( میتھلی، مگہی، بھوجپوری) (ب) وسطی زبانیں (۱) مشرقی ہندی ( چھتیس گڑھی، اودھی، بگھیلی) (ج) اندرونی زبانیں (۱) مغربی ہندی ( کھڑی بولی، ہریانوی، برج، بندیلی، قنوجی) (۲) مشرقی پنجابی (۳) گجراتی (۴) راجستھانی ( مارواڑی، مالوی، میواتی، جے پوری) (۵) بھیلی (۶) خاندیشی (د) پہاڑی بولیاں (۱) مشرقی پہاڑی (نیپالی) (۲) درمیانی پہاڑی (گڑھوالی ، کُمایونی) (۳) مغربی پہاڑی (شِملا کے اطراف و جوانب کی بولیاں)
جار گریر سن نے دہلی اور اس کے اطراف کے علاقوں میں رائج اور لسانیاتی مماثلت رکھنے والی پانچ بولیوں کو اجتمائی طور پر ’مغربی ہندی ‘ کا نام دیا۔ مغربی ہندی ان ہی پانچ زبانوں کھڑی بولی، برج بھاشا، ہریانوی، قنوجی اور بندیلی کے مجموعے کا نام ہے۔ مغربی ہندی ، ہندوستان کی پانچ ریاستوں دہلی ، ہریانہ، اُتر پردیش، اُترا کھنڈ اور مدھیہ پردیش میں رائج ہے اسی کے ساتھ ہریانہ اور راجستھان لے کچھ اضلاع بھی اس کے زیر اثر رہے ہیں۔ مغربی ہندی مجموعے کی بولیاں دو نمایاں شکلوں میں ملتی ہیں ۔ (الف) پہلی قسم کی بولیاں وہ ہیں جن میں اسما، ضمائر، صفات اور افعال کا اختتام عموماً ’ا‘ یعنیٰ طویل مصوتے /-a/ پر ہوتا ہے ۔ جیسے لڑکا، اسکا، کالا، گایا وغیرہ۔ اس طرح کی بولیوں میں کھڑی بولی اور ہریانوی شامل ہیں۔ (ب) دوسری قسم کی بولیاں وہ ہیں جن میں اسما، ضمائر، صفات اور افعال کا اختتام عموماً ’و‘ یعنیٰ /-o/ پر ہوتا ہے ۔ جیسے لڑکو، مہارو، کالوَ، گایو وغیرہ ۔ برج بھاشا، قنوجی اور بندیلی کا شمار اس طرح کی بولیوں میں کیا جاتا ہے۔
کھڑی بولی ،مغربی ہندی گروہ کی ممتاز بولی ہے۔ کھڑی بولی کو دہلوی، کوَرَوی اور ورناکلر ہندوستانی بھی کہا جاتا ہے۔اس کے ارتقا کا زمانہ ۱۰۰۰ ء سے مانا جاتا ہے۔ اس کا شجرہ درج ذیل ہے۔
ہند یوروپی خاندان (INDO-EUROPEAN GROUP)
ہند آریائی خاندان (INDO-ARYAN GROUP)
وسطی ہند آریائی خاندان (MIDDLE HIND ARYAN)
شورسینی پراکرت (SHAURSENI PRAKRIT)
شورسینی اپ بھرنش (SHAURSENI APBHRANSH)
اندرونی زبانیں (CENTRAL ZONE)
مغربی ہندی (WESTREN HINDI)
کھڑی بولی (KHARI BOLI)
کھڑی بولی کے نام کے متعلق دو اہم نظریات ہیں ۔ کچھ عالموں کے نزدیک اس کا نام کھڑی بولی اس لئے پڑا کیونکہ برج بھاشا کے مقابلے اس کا لب و لہجہ تھوڑا اَکھّڑ (کھڑا) تھا جبکہ کچھ عالموں کے نزدیک اس کا نام کھڑی بولی اس لئے پڑا کیونکہ اس بولی کے اسما، ضمائر، صفات اور افعال ’ا‘ پر (یعنیٰ کھڑے) ختم ہوتے ہیں ۔
کھڑی بولی میں بھی علاقائی سطح پر تغیرات پائے جاتے ہیں ۔ بیسویں صدی عیسوی کے درمیان میں ایک ہندوستانی اسکالر راہُل سنسکرتایاین (RAHUL SANKRITAYAYAN) نے ہندوستانی لسانیات کا ایک خاکہ تیار کیا تھا جس میں انہوں نے دہلی کی کھڑی بولی کو دوآبہ کی کھڑی بولی سے مختلف بتا یا ہے ۔ بقول ان کے دو آبہ کی کھڑی بولی در اصل ’ کورووی ‘ ہے جس کے بطن سے دہلی کی کھڑی بولی کا ارتقا ہوا ہے۔
بیشتر ماہر لسانیات کا ماننا ہے کہ اردو اور ہندی کی موجد کھڑی بولی ہی ہے۔کھڑی بولی کے اولین نمونے امیر خسرو ( ۱۲۶۳ تا ۱۳۵۵ ) کے یہاں ملتے ہیں۔ کھڑی بولی سے پہلے بھگتی کال میں ، بھگتی آندولن کی وجہ سے برج بھاشا ( کرشن بھکتی ) ، اودھی ( رام بھکتی) اور میتھلی ( بہار کے شیو) مسلک سے تعلق رکھنے والے سنتوں کی وجہ سے ادبی تخلیقات کا باعث بن چکی تھیں ۔ ان زبانوں میں سنتوں نے قابل قدر کلام کی تخلیق کر دی تھی مگر مغل دربار سے دوری کے باعث یہ دیہات کے عوام کی زبان ہی بنی رہی۔ کھڑی بولی کیونکہ مغل سلطنت کے دار السلطنت یعنیٰ دہلی اور نواح دہلی میں بولی جاتی تھی اس لئے اس پر دربار کی شاہی زبان ، فارسی، کے اثرات بڑی تیزی سے پڑنے لگے اور اسی وجہ سے جلد ہی کھڑی بولی کی قدرو قیمت میں بڑا اضافہ ہو گیا ۔
کھڑی بولی کا محل وقوع (GEOGRAPHICAL DISTRIBUTION OF KHARI BOLI) کھڑی بولی دہلی کے شمال مشرقی علاقے یعنیٰ جمنا پار کی بولی ہے۔مشرقی اُتر پردیش کا بالائی دو آبہ ، اُترا کھنڈ کے میدانی علاقے اور ہریانہ کے کچھ علاقہ میں یہ زبان بولی جاتی ہے۔اس زبان کے زیر اثر آنے والے علاقوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔
اُتر پردیش میں گنگا کے مغربی علاقے کے اضلاع مثلاً۔
۱۔ بیہٹ ۲۔ پرا بُدھ نگر ۳۔ سہارن پور ۴۔ میرٹھ
۵۔ مظفر نگر ۶۔ غازی آباد
۷۔ دیو بند ۸۔ پنچ شیل نگر
۹۔ نانوتہ ۱۰۔ علی گڑھ
۱۱۔ باغپت ۱۲۔ بلند شہر
۱۳۔ گوتم بُدھ نگر
اُتر پردیش میں گنگا کے مشرقی علاقے کے اضلاع مثلاً۔
۱۔ مراد آباد ۲۔ رام پور
۳۔ بھیم نگر ۴۔ بریلی
۵۔ جیوتی با پھولے نگر ۶۔ بجنور
اُترا کھنڈ کے اضلاع مثلاً ۔
۱۔ ہری دوار ۲۔ دیہرا دُون
ہریانہ کے اضلاع مثلاً ۔
۱۔ فرید آباد ۲۔ گُڑ گائوں
۳۔ پانی پت ۴۔ سونی پت
۵۔ جمنا نگر ۶۔ امبالہ
۷۔ کرنال ۸۔ پلول
راجستھان کے دو اضلاع بھرت پور اور دھول پور میں بھی یہ بولی رائج ہے۔
ہریانوی صوبہ ہریانہ کی زبان ہے۔ ہریانہ ، دہلی کے شمال مغرب میں واقع ہے اسی لئے ہریانہ سے منسلک دہلی کے علاقوں میں بھی ہریانوی بولی جاتی ہے۔اس زبان کو ’بانگڑو‘ او ر ’ جاٹو‘ بھی کہتے ہیں ۔ جاٹو اسے اس لئے کہتے ہیں کیونکہ اس کا استعمال جاٹوں کی اکثریت کرتی ہے۔اِس کے لہجہ کا اکھّڑپن اس کی خاص پہچان ہے اور اسی وجہ سے اسے ’ لٹھ مار ‘ بولی بھی کہتے ہیں۔ ہریانہ کے کرنال، رہتک ،حصار،جھجّر، بھوانڈی، سونی پت اور جند اضلاع میں خالص ہریانوی بولی جاتی ہے۔ ہریانوی کا لب و لہجہ کچھ کلو میٹر کی دوری پر ہی تبدیل ہو جاتا ہے ۔ راجستھان سے لگتے ہوئے اضلاع جیسے میوات میں راجستھانی سے متاثر ہریانوی بولی کا رواج ہے جسے میواتی کہتے ہیں وہیں مہیندر گڑھ، گُڑ گائوں اور ریواڑی میں اہیروں کی بولی اہیرواٹی کی شکل میں مقبول ہے۔ بَگَڑی فتح آباد ، بھوانی، سرسہ اور حصار کے مغربی اور جنوبی خطے میں عام ہے۔برج بھاشا سے متاثر ہریانوی کا چلن فرید آباد ضلع میں ہے۔ اس کے شمال مشرق میں کھڑی بولی سے متاثر ہریانوی کا چلن ہے جسے کھدّر کہتے ہیں۔
برج بھاشا مغربی ہندی کی بڑی نمائندہ اور میٹھی بولی تسلیم کی جاتی ہے۔ دہلی کے جنوب مشرقی علاقے میں اس کا ارتقا ہوا جس کا مرکزی شہر برج یعنیٰ متھرا ہے۔ متھرا کرشن چندر جی کی نگری کہلاتی ہے ۔متھرا کا دوسرا نام برج بھی ہے اسی لئے اس بولی کا نام برج بھاشا پڑا۔ اس بولی نے اس نام کا حق بھی ادا کیا کیونکہ کرشن بھکتی کا بیشتر ادب اسی زبان میں تخلیق کیا گیا۔ کرشن بھکت سنتوں نے اس زبان کو اپنی تخلیقات کا ذریعہ بنایا جسکی وجہ سے اس زبان کو بہت ادبی عروج حاصل ہوا۔ہندو تہذیب و تمدن کا قدیم مرکز ہونے اور سنسکرت زبان کا گہوارہ ہونے کی وجہ سے برج بھاشا پر سنسکرت کے گہرے اثرات پائے جاتے ہیںوہیں اودھی سے بھی یہ بہت مماثلت رکھتی ہے۔ امیر خسرو اور سورداس نے بھی اس بولی کو اپنے اظہار خیال کا ذریعہ بنایا۔ امیر خسرو کا کلام ’’چھاپ ، تلک سب چھینی۔۔۔۔۔۔‘‘ اور سورداس کی مقبول نظم ’’ میں نہیں ماکھن کھایو۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ برج بھاشا کا علاقہ کافی وسیع ہے بقول مرزا خلیل احمد بیگ’ یہ متھرا کے جنوب میں آگرہ،فیروز آباد، بھرت پور، دھول پور ، گوالیر نیز جے پور کے مشرقی حصوں میں رائج ہے۔ شمال میں یہ گڑگائوں کے مشرقی حصوں تک پھیلی ہوئی ہے۔متھرا کے شمال مشرق میں یہ ایٹہ، علی گڑھ، بلند شہر ، مین پوری، بدایوں اور بریلی کے اضلاع میں رائج ہے۔جے پور کے قریب کی برج بھاشا پر راجستھانی کا اثر ہے۔ گڑ گائوں کے پاس کی برج بھاشا پر میواتی کا اثر ہے اور بلند شہر میں بولی جانے والی برج بھاشا کھڑی بولی سے گھل مل جاتی ہے۔ { FR 3932 } برج بھاشا کا محل وقوع ((GEOGRAPHICAL DISTRIBUTION OF BRAJ BHASHA) گنگا جمنا دوآبہ کے مندرجہ ذیل اضلاع (۱) متھرا (۷) علی گڑھ (۲) آگرہ (۸) بلند شہر (۳) فیروز آباد (۹) نوئیڈہ (۴) ہاتھ رس (۱۰) فرُخ آباد (۵) ایٹہ (۱۱) بدایوں (۶) مین پوری (۱۲) کاس گنج اُترا کھنڈکے مندرجہ ذیل اضلاع (۱) نینی تال (۲) اُودھم سنگھ نگر راجستھان کے سرحدی علاقے (۱) بھرت پور (۲) دھول پور (۳) کرولی کا کچھ حصہ ہریانہ کے مندرجہ ذیل اضلاع (۱) فرید آباد (۲) گڑ گائوں مدھیہ پردیش کے مندرجہ ذیل اضلاع (۱) بھنڈ (۲) مرینہ (۳) گوالیئر (۴) شِو پوری دہلی کے کوٹلہ مبارک پور میں بھی بولی جاتی ہے۔
اردو زبان کے آغاز و ارتقا سے متعلق مختلف ماہر لسانیات اور محققین کے متعدد نظریات و خیالات اب تک منظر عام پر آ چکے ہیں مگر ایسا کوئی نظریہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے کہ جس کی صداقت اور دلالت کے آگے سبھی ماہر لسانیات ، علماء اور محققین سر خمِ تسلیم کر سکیں ۔ اس معاملے میں جہاں قدیم دور کے دانشوروں نے محض قیاس آرائی اور اپنے ذاتی خیالات کی بنیاد پر اپنے نظریات پیش کئے ہیں بلکہ یوں کہا جائے کہ اپنی رائے کا اظہار کیا ہے وہیں بعد کے دور میں محققین نے مختلف زاویوں سے اور لسانیاتی نقطہ نظر سے اس موضوع پر تحقیق کر کے اپنے نظریات مدلّل طریقہ سے پیش کئے ہیں۔ ــ’’ اردو کے آغاز و ارتقا سے متعلق بحث کا سلسلہ میر امن سے شروع ہوتا ہے جنھوں نے فورٹ ولیم کالج ، کلکتہ کی ملازمت کے دوران انیسویں صدی کی ابتداء میں ’ باغ و بہار ‘ لکھی اور اس کے دیباچے میں اردو کے آغاز کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس کے بعد مولانا محمد حسین آزاد نے ’آب حیات ‘ لکھ کر اردو کے آغاز کے بارے میں اپنا ایک الگ نظریہ پیش کیا۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں سید سلیمان ندوی نے ’ نقوش سلیمانی ‘ میں اردو کے آغاز کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اسی زمانے کے آس پاس حافظ محمود خاں شیرانی اور سید محی الدین قادری زور جیسے جید عالموں اور محققوں نے بھی اردو کے آغاز و ارتقاکے بارے میں نہایت وقتِ نظر اور محققانہ استدلال کے ساتھ اپنے اپنے نظریات پیش کئے۔ ’ مقدمہ تاریخ زبان اردو ‘ میں مسعود حسین خاں نے اردو کے آغاز و ارتقا کا سب سے قابل قبول نظریہ پیش کیا ۔ اس کے بعد شوکت سبزواری کے تحقیقی کارنامے سامنے آئے پھر عہدِ حاضر میں گیان چند جین اور سہیل بخاری جیسے محققین نے اس موضوع پر خامہ فرسائی کی‘‘۔ گیان چند جین ، اردو کی لسانی تشکیل میں اپنے مضمون ’’اردو کے آغاز کے نظریے‘‘ میں لکھتے ہیں ۔ ’’کسی زبان کے آغاز کا مسئلہ طے کرنا ماہرِ لسانیات کا کام ہونا چاہئے لیکن آزادی سے قبل جن زعمانے اردو کے آغاز کے مسئلے پر بڑے اعتماد سے قولِ فیصل جاری کیا وہ لسانیات سے نابلد تھے ۔ انھیں یہ معلوم نہ تھا کہ ۱۰۰۰ء یا ۵۵۰ء میں ہندوستان کا لسانی نقشہ کیا تھا۔ وہ زبان اور بولی کے فرق کو بھی نہ جانتے تھے ۔ آج بھی ایسے معصوم نظر آتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ بولی میں تحریری ادب وجود میں آ جاتا ہے تو اسے زبان کہتے ہیں اور جس زبان میں تحریریں نہ ہو انھیں بولی ہی کہا جائیگا۔ اردو کے مسئلے پر غور کرنے والوں کو دو زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ایک تو وہ بزرگ ہیں جو لسانیات کا درک نہیں رکھتے مثلاً میر امّن، محمد حسین آزاد، نصیر الدین ہاشمی، سلیمان ندوی اور محمود شیرانی۔ یہ حضرات جدید ہند آریائی زبانوں کے آغاز و ارتقا سے اس قدر نابلد ہیں کہ کھڑی بولی، اردو اور ہندی کے اشتراک و اختلاف کے احساس و عرفان نہیں رکھتے۔وہ اردو سے واقف ہیں اور بس۔ دوسرے وہ اہل نظر ہیں جو تاریخی لسانیات پر نظر رکھتے ہیں مثلاً ڈاکٹر زور، ڈاکٹر مسعود حسین خان، ڈاکٹر شوکت سبزواری اور ڈاکٹر سہیل بخاری۔‘‘ اسی مضمون میں آگے وہ ایک اور اہم بات لکھتے ہیں۔’’ ایک معیاری زبان کی کئی سطحیں ہوتی ہیں جن میں تحریری اور تقریری دو خاص سطحیں ہیں۔ تحریری کی بھی دو سطحیں (۱) ادبی (۲) کاروباری یا علمی ہوتی ہیں ۔ تقریری زبان کی کم سے کم تین سطحیں ہوتی ہیں۔ (۱) معیاری بولی یعنی پڑھے لکھے لوگوں کی بول چال کی زبان ((۲) پست معیاری یعنی شہر کے کم پڑھے لکھوں کی بول چال کی زبان (۳) دیہاتی یعنی معیاری زبان کے علاقے میں دیہات کی مسخ شدہ بولی یہ قسمیں طبقاتی اور عمووی ہیں اور سماجی لسانیات سے تعلق رکھتی ہیں ۔ واضح رہے کہ زبان کے تعین میں تقریری روپ ہی معتبر ہوتا ہے، تحریری یا ادبی روپ نہیں۔ کسی ملک کا لسانی جائزہ لیا جاتا ہے یا بولی ایٹلس تیار کیا جاتا ہے تو مختلف علاقوں کی بول چال کی زبان ا ور بولی کا تجزیہ کیا جاتا ہے ، اہل ادب کی انشا کا نہیں۔ اردو کے آغاز کے مسئلے کو بھی بول چال میں مستعمل زبان یا بولی تک محدود رکھنا ہوگا۔‘‘ اردو کے آغاز و ارتقا کے تمام نظریات کو علی رفاد فتیحی نے اپنی کتاب ’اردو لسانیات ‘ میں تین درجوں مین تقسیم کیا ہے۔ (1) سامی نظریہ (2) مسلم آریائی نظریہ (3) آریائی نظریہ سامی نظریے میں اردو کا تعلق سامی لسانی خاندان سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ان نظریات کے حامیوں میں ’’ دکن میںاردو ‘‘ کے مصنف نصیر الدین ہاشمی اور ’’ نقوش سلیمانی‘‘ کے مصنف سید سلیما ن ندوی ہیں۔سلیمان ندوی اردو کی جائے پیدائش سندھ قرار دیتے ہیں وہیں نصیر الدین ہاشمی کے نزدیک یہ دکن کی سرزمین ہے جہاں اردو کا ہیولیٰ تیار ہوا تھا۔ مسلم آریائی نظریہ کے تحت وہ نظریات آتے ہیں جن کے مطابق اردو کی داغ بیل شمالی ہندوستان میں پڑی حالانکہ اس درجہ کے ماہر لسانیات کے نظریات میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں مثلاًحافظ محمود خاں شیرانی کے مطابق اردو کی پیدائش پنجاب میں ہوئی جبکہ محمد حسین آزاد اسکی ابتداء برج بھاشا سے بتاتے ہیں ۔ ژول بلاک اس ضمن میں ہریانوی کی طرف ہماری توجہ دلاتے ہیں وہیں پروفیسر مسعود حسین خاں اسے دہلی اور نواح دہلی کی بولیوں سے منسوب کرتے ہیں۔ شوکت سبزواری پالی سے اردو کی ابتداء ثابت کرتے ہیں وہیں پاکستان کے فتح محمد ملک اُڑیسہ کو اردو کی جائے پیدائش بتاتے ہیں ۔ بہر حال اس ضمن میں مزید تحقیقات جاری ہیں اور آنے والے وقت میں مزید نظریات سامنے آئیں تو کچھ تعجب خیزنہ ہوگا ۔
ادو کی پیدائش وادیِ سندھ میںہونے کا نظریہ (i) |
|---|
مولانا سلیمان ندوی کا نظریہ ہے کہ اردو کی پیدائش سندھ میں ہوئی ہے کیونکہ ۷۱۲ ء میں محمد بن قاسم نے سندھ کو فتح کر لیا تھا اور اس
فتح کے
بعد کثیر تعداد میں مسلم وادی سندھ میں مقیم ہو گئے اور تقریباً تین سو سال تک سندھ تک ہی محدود رہے ۔ اس طویل عرصے کے دوران عربوں اور مقامی باشندوں کے مابین سماجی میل جول نے عروج پایا اور سندھ کی مقامی بولی یعنی سندھی اور عربوں کی زبان عربی کے مابین بھی روابط قائم ہوئے
اسی بنیاد پر سلیمان ندوی نے اپنے نظریہ کو اپنی تصنیف ’’ نقوش سلیمانی میں پیش کیا ۔ بمطابق ان کے ’’ قرین قیاس یہی ہے کہ جس کو آج ہم اردو کہتے ہیں اس کا ہیولیٰ وادی سندھ میں تیار ہوا ہوگا۔ لہٰذا ان کا خیال ہے کہ اسی دوران عربی نے سندھ کی مقامی بولی سے مل کر اردو کی داغ بیل
ڈ الی ہوگی۔‘‘
سید سلیمان ندوی کے اس نظریہ کی تردید تقریباً تمام ماہر لسانیات نے کی ہے کیونکہ سندھ کی مقامی زبان پر عربی کے اثر سے جو زبان وجود میں آئی دراصل
وہ اردو نہیں بلکہ سندھی زبان تھی ۔ سندھی میں ہمیں عربی زبان کے بے شمار الفاظ ملتے ہیں مگر ماہر لسانیات کے مطابق کسی زبان میں غیر زبانوں کے الفاظ کی موجودگی اس زبان کے بنیادی ڈھانچے اور ساخت کو نہ تو متاثر کرتی ہے نہ ہی اس کی قدیم بناوٹ کا کوئی پتہ دیتی ہے۔
اردو کا تعلق ہند آریائی گروہ سے ہے کیونکہ جن ترکیبی اجزا سے اس کا بنیادی ڈھانچہ تیار ہوا ہے وہ ہند آریائی ہے نہ کہ سامی یا ایرانی۔ کسی زبان کے بنیادی ڈھانچے اور ترکیبی اجزا کو نظر انداز کر کے محض اس کے سرمایہ الفاظ کی بنیاد پراس کا تعلق سندھ سے یا عربی زبان سے
جوڑنا در اصل غلط طریقہ کار ہے۔اس نظریہ کی پختگی کے لئے کسی طرح کے شواہد اورلسانی دلائل بھی ندوی صاحب نے پیش نہیں کئے بلکہ یہ پورا نظریہ صرف قیاس کی بنیاد پر ٹکا ہوا ہے اور اسی لئے سلیمان ندوی کے اس نظریہ کو اردو ادب میں زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہو پائی۔
دکن میں اردو کی ابتداء (ii)
اس نظریہ کو نصیر الدین ہاشمی نے اپنی تصنیف ’’ دکن میں اردو‘‘ کے ذریعہ پیش کیا جسے جدید دور کے کچھ عالموں نے مزید تقویت بخشی ہے۔ اس نظریہ کی بنیاد یہ ہے
کہ جنوبی ہند سے عرب سوداگروں کے تعلقات بہت قدیم تھے اور اس علاقے میں ان کی آمد و رفت عرصہ دراز تک قائم رہی لہٰذا یہاں کی مقامی دکنی زبان اور عربی زبان کی آمیزش سے اردو زبان نے وجود پایا ۔ نصیر الدین ہاشمی اپنی تصنیف ’’ دکن میں اردو‘‘ میں اس ضمن میں
رقم طراز ہیں
کہ ’’ یہ امر تقریباً تصفیہ شدہ ہے کہ اردو مسلمانوں اور ہندوئوں کے باہمی میل جول سے پیدا ہوئی ہے۔اس لئے جن اصحاب کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کی ابتداء سندھ اور دکن سے ہوئی ،وہ ایک حد تک غلط نہیں ہو سکتا ، کیوں کہ مسلمانوں کی آمد سب سے پہلے ان ہی مقامات پر ہوئی۔‘‘
اور آگے وہ لکھتے ہیں۔ ’’ اب یہ امر خاص طور سے
غور طلب ہے کہ جب مسلمانوں نے مدتوں دکن میں بودوباش کی تو ظاہر ہے کہ ایک خاص زبان کا پیدا ہونا ضروری تھا ، جو دونوں غیر قوموں کے لئے تبادلہ خیال کا ذریعہ ہوتی ۔ اس لحاظ سے جو دعویٰ اردو کے دکن سے پیدا ہونے کا کیا جاتا ہے ، وہ بہت بڑی حد تک صحیح ہو سکتا ہے۔
اس ضمن میں دکن کی ڈاکٹر آمنہ خاتون کا ذکر نا بھی ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ انہوں نے ، ’دکنی کی ابتداء‘ کے نام سے تحریر کردہ اپنے ایک کتابچہ میں دعویٰ کیا ہے
کہ دکنی زبان کے ارتقا کا تعلق شمالی ہند کی بولیوں سے نہیں بلکہ دکن کی سرزمین سے ہی ہے ۔ آمنہ خاتون کے خیال کے مطابق مسلمانوں کی دہلی آمد سے کم سے کم ساڑھے پانچ سو سال قبل ہی دکن میں مرہٹی زبان میں عربی ، فارسی الفاظ کی آمیزش سے دکنی کی داغ بیل پڑی ۔ اس
ضمن میں وہ اپنے کتابچہ’ دکنی کی ابتداء میں رقم طراز ہیں ۔’’ تاریخ شاہد ہے کہ بندرگاہ تھانہ پر قبضے ( ۶۳۶ء ) کے زمانے سے دولت آباد کے پایہ تخت قرار پانے ( ۱۳۲۷ء ) کے زمانے تک مہاراشٹرا کے مسلمانوں کی زبان پہلے بلاشبہ شورسینی اپ بھرنش اور بلا شبہ اس
کی مقامی پیداوار مراٹھی تھی اور اس کے شواہد موجود ہیں کہ شورسینی اپ بھرنش اور مرہٹی میں عربی اور فارسی کی سات سو سال کے عرصے میں بتدریج آمیزش اور پڑوس کی جدید آریائی زبانوں سے لین دین اور راہ و رسم کی وجہ سے مرہٹی کے دوش بدوش دکنی کی نشو نما ہوئی ۔‘‘
اردو کے آغاز و ارتقا کے بارے میں، دیگر نظریات پیش کرنے والے عالموں پر تنقید کرتے ہوئے وہ اپنے کتابچہ میں فرماتی ہیں کہ۔’’ یہ فرض کرنا کہ دکن میں ان پورے
پونے سات سو سالوں کے عرصے میں مرہٹی میں عربی اور فارسی کے شمول اور راجستھانی، گجراتی اور برج بھاکا کے ماحول کے اثر سے دکنی وجود میں نہیں آئی بلکہ دفعتاً ۱۳۲۷ء میں دہلی کی آبادی کے دولت آباد میں منتقل ہو جانے سے موجود ہو گئی ہے ، کسی
زبان کے وجود میں آنے اور اس کے نشوو نما پانے کے کل مسلمہ لسانیاتی اصولوں کے سراسر خلاف ہے اور اس حقیقت سے چشم پوشی ہے کہ دولت آباد، گلبرگہ اور بیدر جو سلطنت دہلی کے مرکز حکومت تھے مرہٹواڑی میں واقع تھے اور یہاں کے باشندوں کی زبان مرہٹی تھی۔‘‘
اردو کے دکن میں پیدا ہونے کا نظریہ زیادہ تر ماہر لسانیات کے نزدیک صحیح نہیں
ہے کیوں کہ عرب جب دکن آئے تو دکن میں جو زبانیں رائج تھیں مثلاً کنّڑ، تامل، ملیالم وغیرہ وہ سب دراویڑی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ عربی بالکل ہی الگ لسانیاتی خصوصیات کے حامل خاندان ، سامی خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور یہ خیال کہ ان دو مختلف خاندانوں
( دراویڑی اور سامی) کی دو زبانوں کے میل سے ایک تیسرے خاندان یعنیٰ ہند آریائی خاندان سے تعلق رکھنے والی زبان وجود میں آئی کسی بھی نقطہ نظر سےصحیح نہیں ہو سکتا۔
مسعود حسین خان مقدمہ تاریخ اردو زبان میںلکھتے ہیں ۔ ’’ آمنہ خاتون نے اگر دہلی اور نواح دہلی کی دو بولیوں ، کھڑی بولی اور ہریانوی کا لسانیاتی تجزیہ اور
دکنی سے اس کا تقابل کر لیا ہوتا تو انھیں اندازہ ہو جاتا کہ دکنی کی اصل و اساس یہی دونوں بولیاں ہیں نہ کہ مرہٹی (مراٹھی) ۔ دکنی پر مراٹھی کے اثرات محض چند عناصر تک ہی محدود ہیں، مثلاً ’’نکو‘‘ اور ’’چ‘‘ تاکیدی وغیرہ ، یا مراٹھی کے چند الفاظ جو دکنی میں در آئے ہیں۔
گیان چند جین ، اردو کی لسانی تشکیل میں اپنے مضمون
’’اردو کے آغاز کے نظریے‘‘ میں لکھتے ہیں ۔ ’’اردو ہند آریائی زبان ہے اس لئے دراویڑی زبانوں کے علاقے میں اس کے وضع ہونے کا سوال ہی نہیں ، سندھ میں عربوں کے آنے سے قدیم سندھی متاثر ہوئی ہوگی ۔ عربی اور سندھی کے میل سے اردو نہیں پیدا ہو سکتی۔ ‘‘
دکن میں اردو کی ابتداء (ii)
اردو کی پیدائش کے مسلم آریائی نظریات کے ضمن میں مندرجہ ذیل اہم نظریات آتے ہیں۔ (1) پنجاب میں اردو کی ابتداء کا نظریہ : اس نظریہ کی بنیاد یہ ہے کہ محمود غزنوی اور اس کے بعد شہاب الدین غوری کی فتوحات کے باعث فارسی اور پنجاب کی مقامی زبان کے میل جول سے اردو زبان کا ڈھانچا تیار ہوا اور جب یہ فارسی آمیز پنجابی یعنی قدیم اردو دہلی پہنچی تو اس نے ترقی کی نئی منزلیں طے کیں ۔ اس نظریہ کی طرف سب سے پہلے شیر علی خاں سرخوش نے اپنے تذکرے ’’ اعجاز سخن ‘‘ ( ۱۹۲۳ ء) میں اشارہ کیا تھا۔سرخوش کے علاوہ سید محی الدین قادری زور نے بھی اس امر کی طرف اشارہ کیا تھا کہ اردو پنجاب میں پیدا ہوئی ہے۔ اس نظریے کو انہوں نے اپنی تصنیف ’’ ہندوستانی لسانیات ‘‘ میں ان الفاظ میں کیا ہے۔’’اردو کا سنگ بنیاد دراصل مسلمانوں کی فتح دہلی سے بہت پہلے ہی رکھا جا چکا تھا ۔ یہ اور بات ہے کہ اس نے اس وقت تک ایک مستقل زبان کی حیثیت نہیں حاصل کی تھی ، جب تک کہ مسلمانوں نے اس شہر کو اپناپایہ تخت نہ بنا لیا۔اگر یہ کہا جائے تو صحیح ہے کہ اردو اس زبان پر مبنی ہے جو پنجاب میں بارہویں صدی عیسویں میں بولی جاتی تھی ۔‘‘ اس نظریہ کو حافظ محمود خاں شیرانی نے اپنی تصنیف ’’ پنجاب میں اردو‘‘ میں بڑے مفصل اور مدلل انداز میں پیش کیا ۔وہ لکھتے ہیں۔’’ اردو دہلی کی قدیم زبان نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دہلی جاتی ہے اور چوںکہ مسلمان پنجاب سے ہجرت کر کے جاتے ہیں اس لئے یہ ضروری ہے کہ وہ پنجاب سے کوئی زبان اپنے ساتھ لے کر گئے ہونگے۔ ‘‘ دراصل محمد بن قاسم کے بعد دوسری مرتبہ مسلمان دسویں صدی عیسوی کے آخر میں غزنی کے بادشاہ امیر سبکتگین کی سرکردگی میں پنجاب میں داخل ہوئے ۔ان دنوں ہندوستان میں دہلی سے کابل کے قرب تک راجا جے پال کی حکومت تھی جس کا دار الخلافہ لاہور تھا۔ امیر سبکتگین نے جے پال کو شکست دے کر پنجاب اور پشاور کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ امیر سبکتگین کی وفات (۹۹۷ ء)کے بعد اس کے فرزند محمود غزنوی نے پنجاب اور دیگر علاقوں پر یکے بعد دیگر حملے کئے اور لاہور کو اپنی سلطنت میں شامل کرکے( ۱۰۲۷ء ) ایک ترکی کو حاکم مقرر کیا اور خود غزنی واپس چلا گیا جہاں ۱۰۳۰ء میں اس کا انتقال ہو گیا ۔غزنوی سلطنت کے قیام کے بعد مسلمان رفتہ رفتہ سارے پنجاب میں پھیل گئے مگر یہ وادی سندھ اور مالابار کے ساحلوں پر وارد ہوئے مسلمانوں کے بر خلاف عربی کی جگہ فارسی بولتے تھے جبکہ کچھ کی مادری زبان ترکی بھی تھی ۔ پنجاب میں مسلمانوں نے تقریباًدو سو سال تک قیام کیا جس کی بدولت مقامی باشندوں کے ساتھ ان کے مضبوط سماجی روابط قائم ہو گئے ۔ اسی بنیاد پر حافظ محمود خاں شیرانی نے اپنے نظریہ کی بنیاد رکھی اور ان کے مطابق اردو کا جنم سر زمین پنجاب میں ہوا اور یہیں سے بعد کو وہ دہلی پہنچی۔ محمود خاں شیرانی نے اپنے اس نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے نہ صرف تاریخی دلائل پیش کئے ہیں بلکہ پنجابی ، دکنی اور اردو کی لسانی خصوصیات کا مطالعہ اور اردو، پنجابی کی صرف و نحو کا تقابلی مطالعہ بھی پیش کیا ہے۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں۔ ’’ ان کی تذکیر و تانیث اور جمع اور افعال کی تصریف کا اتحاد اسی ایک نتیجے کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ اردو اور پنجابی زبانوں کی ولادت گاہ ایک ہی مقام ہے۔ دونوں نے ایک ہی جگہ تربیت پائی ہے، اور جب سیانی ہو گئیں ہیں تب ان میں جدائی واقع ہوئی ہے۔‘‘ ٹی۔ گراہم بیلی جو پنجابی زبان کے ایک مستند عالم سمجھے جاتے تھے اردو کے آغاز کے بارے میں محمود خاں شیرانی کے خیال سے پورے طور پر اتفاق کرتے ہوئے رائل ایشیاٹک سوسائٹی کے مجلّے میں لکھتے ہیں ۔ ’’ اردو ۱۰۲۷ء کے لگ بھگ لاہور میں پیدا ہوئی ۔ قدیم پنجابی اس کی ماں ہے اور قدیم کھڑی بولی سوتیلی ماں ، برج سے براہ راست اس کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔ مسلمان سپاہیوں نے پنجابی کے اس روپ کو جو ان دنوں دہلی کی قدیم کھڑی بولی سے زیادہ مختلف نہ تھا اختیار کیا اور اس میں فارسی الفاظ اور فقرے شامل کر دئے ۔‘‘ محمود خاں شیرانی کی ’’ پنجاب میں اردو ‘‘ کی اشاعت سے قبل ڈاکٹر سنیتی کمار چٹرجی نے اپنی ایک تحقیقی تصنیف ’’ دی اوریجن اینڈ ڈیولپ مینٹ آف دی بنگالی لینگوئجز ‘‘ کی پہلی جلد کے مقدمے میں یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ نواح دہلی کی موجودہ بولیوں کا تشخص مسلمانوں کے داخلہ دہلی کے وقت نہیں ہوا تھا اور لاہور تا الہٰ آباد تقریباً ایک ہی زبان رائج تھی ۔ اس خیال کی تائید بعد میں ڈاکٹر محی الدین قادری زور نے بھی کی اور اردو کو اس زبان پر مبنی بتایا جو پنجاب میں بارہویں صدی میں بولی جاتی تھی۔ پنجاب میں اردو کے پیدا ہونے اور پھر دہلی پہنچنے کی دلیل در اصل ایک قیاس ہے۔ کیونکہ شیرانی صاحب کے نظریہ کے مطابق مسلمانوں نے لاہور سے دہلی کی جانب بڑی تعداد میں نقل مکانی کی تھی اور وہ اردو زبان کو اپنے ساتھ لے کر دہلی گئے تھے ، کسی بھی طرح سے ثابت نہیں ہوتا ۔ اتنی بڑی تعداد میں نقل مکانی کی شہادت کہیں نہیں ملتی کہ وہ دہلی اور اطراف دہلی کے لسانی مزاج کو بدل ڈالے۔ ان کے نظریہ کی دوسری بنیاد دکنی اور پنجابی زبان کی مماثلتیں ہیں مگر یہ جزوی مماثلتیں کسی بھی ایک خاندان کی دو بولیوں میں مل جائیں گی اور اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ ایک زبان دوسری زبان سے ماخوذ ہے۔ اس نظریہ پر ڈاکٹر مسعود حسین خاں نے اپنی تصنیف ’’ مقدمہ تاریخ زبان اردو ‘‘ اور ڈاکٹر شوکت سبزواری نے ’’ داستان زبان اردو ‘‘ میں تنقید کی ہے اور اس نظریہ کی تردید کی ہے ۔ دونوں حضرات نے پنجابی اور اردو کے بہت سارے اختلافات کو نمایاں کیا ہے وہیں ڈاکٹر سبزواری نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اردو کے بعض روپ پنجابی روپوں سے زیادہ قدیم تر اور سنسکرت سے نزدیک تر ہیں۔ ڈاکٹر مسعود حسین خاں اپنے ایک انگریزی مضمون observations on the origin of urdu Some میں لکھتے ہیں ( ترجمہ ڈاکٹر مرزا خلیل احمد بیگ)۔ ’’میں آخر الذکر نظریے (سنیتی کمار چٹرجی اور محی الدین قادری زور ) کا ذکر پہلے کرنا چاہتا ہوں ۔ یہ نظریہ اس مغالطے کی وجہ سے وجود میں آیا جس کا ذکر میں بالکل شروع میں کر چکا ہوں یعنیٰ یہ کہ علاقائی بولیوں کے اختلافات کو نظر انداز کرکے ہند آریائی کی تاریخ کا مطالعہ کلّی حیثیت سے ممکن نہیں۔ ہمارے محققین کی یہ کمزوری رہی ہے کہ وہ کلیت میں اتنا زیادہ کھو جاتے ہیں کہ بعض اوقات وہ ان شواہد کو بھی نظر انداز کر جاتے ہیں جن کی مدد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی علاقے میں بولیوں کا پھو ٹ (split) بھی عمل میں آیا ہے۔ ۱۳۱۸ ء میں لکھی گئی اپنی فارسی مثنوی ’’ نہ سپہر‘‘ میں خسرو نے ہندوستانی زبانوں کا ذکر کیا ہے اور اپنے عہد کی لسانی صورت حال کو یوں بیان کیا ہے۔ ’ قدیم زمانے سے ہندوستان کی زبان ’’ہندوی ‘‘ رہی ہے ، جب غوریوں اور ترکوں نے یہاں کا رخ کیا تو فارسی زبان نمودار ہوئی ، جب لوگوں کا ان سے (ترکوں) سابقہ پڑا تو ہر شخص نے فارسی سیکھنا شروع کر دی ، اس طرح دوسری زبانوں کا ارتقا رک گیا۔‘‘ خسرو نے ہندوستانی زبانوں کی فہرست یوں پیش کی ہے۔ سندی، لاہوری و کشمیر و ڈُگر دھور سمندری، تلنگی و گجر معبری، گوڑی و بنگال و اود دہلی و پیرانش، اندر ہمہ حد خسرو کے مطابق قدیم زمانے سے یہ ہندوی زبانیں رائج ہیں اور لوگ ہر مقصد کے لئے انھیں استعمال کرتے ہیں ، وہ آگے لکھتے ہیں ۔ ’’ لیکن ایک دوسری زبان بھی ہے جسے سارے برہمن برتر تسلیم کرتے ہیں ۔ قدیم زمانے سے اس کا نام سنسکرت ہے جس کے بارے میں لوگوں کو بہت کم واقفیت ہے۔‘‘ اس طرح کے واضح لسانی بیان کی موجودگی میں جو اس دور کے سب سے بڑے ادیب اور کئی زبانوں کے ماہر کے قلم سے نکلا ہو یہ کیسے دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اردو اور اس کی نسبت سے ہندی کی اساس اس زبان پر قائم ہے جو شمالی ہندوستان میں لاہور تا الہٰ آباد بولی جاتی تھی۔
اس نظریہ کے حامیوں میں ہیورنلے، محمد حسین آزاد، میر امّن، سر سید احمد خاں، امام بخش صحبائی اور سید شمس اللہ قادری کے نام قابل ذکر ہیں۔ اردو زبان کی ابتدابرج بھاشا سے ہونے کا نظریہ سب سے پہلے روڈولف ہیورنلے نے پیش کیا تھا ۔ روڈولف ہند آریائی لسانیات کے ماہر تھے۔انہوں نے اس ضمن میں اپنے مقدمہ ، ’’ گوڑی زبانوں کی قوائد‘‘ میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اردو بارہویں صدی میں دہلی کے نواح میں ، جو مسلم اقتدار کا علاقہ تھا، پیدا ہوئی۔ یہ علاقہ برج، مارواڑی، پنجابی کا سنگم ہے۔ یہیں مقامی باشندوں اور مسلم سپاہیوں کے اخطلاط و ارتباط سے ایک ملی جلی زبان وجود میں آئی جو صرفی، نحوی اصول کی حد تک برج ہے ، اگرچہ اس میں پنجابی اور مارواڑی کی آمیزش بھی ہے۔محمد حسین آزاد نے اپنی تصنیف ’’ آب حیات ‘‘ میں اپنے اس نظریہ کو ان الفاظ میں پیش کیا ہے۔’’ اتنی بات ہر شخص جانتا ہے کہ ہماری اردو زبان برج بھاشا سے نکلی ہے اور برج بھاشا خاص ہندوستانی زبان ہے۔‘‘ سید شمس اللہ قادری بھی اس نظریہ کی تائید میں رسالہ ’’ تاج اردو ‘‘ کے ’’ قدیم نمبر ‘‘ لکھتے ہیں۔’’ مسلمانوں کے اثر سے برج بھاشا میں عربی فارسی الفاظ داخل ہونے لگے جس کے باعث اس میں تغیر شروع ہوا جو روز بروز بڑھتا گیا اور ایک عرصہ کے بعد اردو زبان کی صورت اختیار کر لی۔ ‘‘ اس نظریہ کو ایک زمانے بہت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا حالانکہ بعد کے دورمیں یہ نظریہ بھی تنقید کی زد میں آ گیا کیونکہ اس نظریہ یا خیال کے پیچھے مضبوط دلائل نہیں تھے اور اس کا کوئی لسانیاتی جواز بھی پیش نہیں کیا جا سکا تھا۔ اس نظریہ کے وجود میں آنے کے پیچھے دو اہم وجوہات تھیں جن کو ذہن میں رکھ کر یہ نظریہ منظر عام پر آیا ۔ اول برج بھاشا کی مقبولیت ۔ یہ بات کسی سند کی مہتاج نہیں کہ ایک زمانے میں برج زبان نے صوفیائے کرام ، سادھو ، سنتوں اور سنگیت کاروں کو اپنی مٹھاس کے جادو سے ایسا جکڑا کہ ہر شخص اس کا دلدادہ ہو گیا اور برج بھاشا اپنے علاقے کے باہر بھی کافی مقبول ہو گئی ۔ بر ج بھاشا ، دوہوں اور گیتوں کی زبان بن گئی یہی وجہ ہے کہ امیر خسرو ، نام دیو، کبیر داس، گرو نانک وغیرہ کے کلام میں برج کے عمدہ نمونے ملتے ہیں۔ دوسری وجہ ہے آگرہ کا دار السلطنت ہونا۔ سلطان بہلول لودھی کے بعد سکندر لودھی کے زمانے میں برج کو پھلنے پھولنے کا بہت موقع ملا۔ اکبر، جہانگیر، اور شاہ جہاں کے عہد میں یہ سلسلہ جاری رہا اور ایک وقت ایسا آیا کہ شمالی ہند میں ادبی اظہار کے لئے اس سے بہتر زبان کوئی دوسری تسلیم نہیں کی جاتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ شاہی دربار میں بھی اس کی رسائی ہو گئی تھی ۔ اکبر کے دربار میں عبد الرحیم خان خانہ برج کا ہی بہترین شاعر تھا۔ شاہ جہاں کے آگرہ سے دہلی کو دار السلطنت بنائے جانے کے بعد بھی برج کا اثر قائم رہا اور دہلی میں ہی برج بھاشا کی قواعد کی کتاب ’’ تحفتہ الہند‘‘ کی تصنیف ہوئی جسے مرزا خاں نے غالباً مغل شہزادوں کو ہندی پڑھانے کی غرض سے فارسی میں لکھا تھا۔ اردو کے برج بھاشا سے نکلنے کے نظریہ پر محمود شیرانی نے اپنی کتاب ’’ پنجاب میں اردو‘‘ اور مسعود حسین خاں نے ’’ مقدمہ تاریخ زبان اردو‘‘ اور ڈاکٹر شوکت سبز واری نے ’’ داستان زبان اردو‘‘ میں تنقیدکی ہے۔ ان سبھی محققین نے لسانیاتی تجزیہ کی بنیاد پر اس نظریہ کو غلط ثابت کیا ہے۔ مسعود حسین خاں کہتے ہیں ’’ اس میں شک نہیں کہ قدیم اردو کو جدید اردو میں تبدیل کرنے میں برج بھاشا اور آگرہ کا بڑا ہاتھ رہا ہے لیکن اردو اور برج بھاشا کا رشتہ بیٹی اور ماں کا نہیں بلکہبہنوں بہنوں کا ہے۔ آزاد نواحِ دہلی کی بولیوں کے نازک اختلافات سے ناواقف تھے اور محض روایتاً انھوں نے برج کو اردو کا ماخذ بتایا ہے ۔ انھوں نے شیرانی کی طرح اس سلسلہ میں کوئی حجّت یا دلیل پیش نہیں کی ہے ۔ برج بھاشا اس گروہ سے تعلق رکھتی ہے جس کے اسماء و افعال (اوَ) پر ختم ہوتے ہیں جب کہ اردو نے اپنے ارتقا کے کسی مرحلہ میں اس کو قبول نہیں کیا ہے۔برج بھاشا طویل مصوتوں کو اپناتی ہے جبکہ قدیم اردو مختصر مصوتوں یا مشدد الفاظ کو ترجیح دیتی ہے۔صوتی نقطہ نظر سے بھی یہ بات غیر تسلیم شدہ ہو جاتی ہے جیسے برج میں (ش) کی آواز (ش) نہ ہوکر (س) ہو جاتی ہے۔ ‘‘
اردو کے آغاز کا یہ ایک اہم او ر بہت مقبول یا یوں کہا جائے کہ سب سے مقبول نظریہ ہے۔ اس نظریہ کے مطابق اردو کا ارتقا کھڑی بولی سے ہوا ہے۔ ڈاکٹر شوکت سبزواری، ڈاکٹر سہیل بخاری اور پروفیسر گیان چند جین جیسے دانشور کھڑی بولی کو اردو کی اصل بیان کرتے ہیں۔ سہیل بخاری اور شوکت سبز واری کا اس بات پر اتفاق ہے کہ لسانیاتی نقطہ نظر سے اردو، ہندی اور کھڑی بولی ایک ہی ہیں۔ ہندی میں جہاں سنسکرت کے تتسم الفاظ کی زیادتی ہے وہیں اردو میں عربی ، فارسی الفاظ زیادہ ہیں لیکن اس کے باعث یہ کھڑی بولی سے الگ زبان نہیں ہو جاتی۔ شوکت سبز واری نے اپنی تصنیف ’’ داستان زبان اردو‘‘ میں اردو کے آغاز و ارتقا سے متعلق تفصیل سے مدلل بحث کی ہے اور اپنے نظریہ کو پیش کیا ہے ۔ ان کے مطابق اردو ، ہندوستانی یا کھڑی بولی سے ترقّی پاکر بنی ہے جو دہلی اور میرٹھ کے نواح میں گیارھویں صدی عیسوی میں بولی جاتی تھی۔ ان کا نظریہ یہ بھی ہے کہ کھڑی بولی یا ہندوستانی یعنی اردو مسلمانوں کی آمد سے پہلے دہلی کے بازاروں میں بولی جاتی تھی۔بقول ان کے ۔’’ اردو ہندوستانی سے ترقی پاکر بنی جو دہلی، میرٹھ اور اس کے نواح میں بولی جاتی تھی۔ جب مسلمان فاتحانہ شان سے دہلی میں داخل ہوئے تو ہندوستانی، دہلی کے بازاروں میں بول چال کی حیثیت سے رائج تھی ۔ امیر خسروؔ، ابو الفضل، شیخ بہا الدین باجن، نے اسے دہلوی کہا ۔ ہندو اہل علم عام طور سے برج، قنوجی، بندیلی وغیرہ بولیوں سے امتیاز کے لئے جو اس وقت ’پڑی‘ کہلاتی تھیں ، کھڑی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ جب یہ زبان ترقی پاکر آگے بڑھی ، مسلمانوں کی سرپرستی میں پروان چڑھی ، ملک کے گوشے گوشے میں پہنچی ، گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا تو ہندوستانی کہلائی ۔ زبان بنیادی طور سے وہی رہی جو آج ہے۔ اس کے نام ایک سے زیادہ تجویز ہو گئے ۔ ‘‘ شوکت سبزواری کے نظریہ کا ایک اہم پہلو اور بھی ہے ۔ وہ یہ کہ بقول انکے اردو اور پراکرت کی درمیانی کڑی اپ بھرنش ہے یعنیٰ اردو کا ارتقا اپ بھرنش ہوا ہے اور یہ بول چال کی اپ بھرنش گیارھویں صدی عیسوی میں دہلی اور میرٹھ میں رائج تھی اسی سے اردو نے ارتقا پایا۔ گریر سن کی مغربی ہندی اور اسکی پانچ بولیوں کا تصوّر ان کی نظر میں محض ایک منطقی اُپج ہے۔ لہٰذا وہ لکھتے ہیں ۔ ’’ اردو اور پراکرت کی درمیانی کڑی اپ بھرنش ہے۔ اس لئے مغربی ہندی کو درمیان سے نکال کر یہ کہنا کہ اردو اپ بھرنش سے ارتقا پا کر وجود میں آئی زیادہ صحیح ہے۔ ‘‘ ’’ اردو یا ہندوستانی اپ بھرنش کے اس روپ سے ماخوذ ہے جو گیارھویں صدی عیسوی کے آغاز میں مدھیہ دیش میں رائج تھا۔ مغربی اپ بھرنش اس کی ادبی شکل ہے ، اور جیسا کہ میں نے عرض کیا وہ بول چال کی اپ بھرنش سے مختلف ہے۔ یہ بول چال کی اپ بھرنش دہلی اور میرٹھ میں بولی جاتی تھی ۔ ‘‘ سنیتی کمار چٹرجی کا نظریہ بھی یہی ہے وہ شوکت سبزواری کی ’ مغربی اپ بھرنش‘ کو ’ ترقی یافتہ مغربی اپ بھرنش‘ کہتے ہیں اور اسی کو ’’ ہندی‘‘ ، ’’ ہندوی‘‘، ’’زبان اردو‘‘ کی اصل قرار دیتے ہیں ۔ چٹرجی ان تینوں زبانوں کو ایک ہی مانتے ہوئے اسے ’’ ہندوستھانی ‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں ۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ وہ اس ’’ ترقی یافتہ مغربی اپ بھرنش‘‘ سے کھڑی بولی کا ہی نکھرا ہوا اور ترقی یافتہ وہ روپ مراد لیتے ہیں جو مسلمانوں کے داخلہ دہلی کے وقت شمالی ہندوستان میں رائج تھا۔ دیکھئے انکی تصنیف ’’ INDO-ARYAN AND HINDI‘‘ جس میں وہ لکھتے ہیں ۔’’ترکوں اور ایرانیوں کے یہاں سکونت پذیر ہونے اور دہلی میں پہلی بار اسلامی سلطنت کے قیام کے بعد صرف ترقی یافتہ مغربی اپ بھرنش ہی شمالی ہندوستان کے میدانی علاقوں کے عوام کی مشترکہ زبان کی حیثیت سے رائج ہوئی ۔‘‘ مزید لکھتے ہیں۔ ’’ اسے کسی نے نئی زبان کی حیثیت سے شعوری اور باضابطہ طور پر ایجاد نہیں کیا یہ تو مغربی ہندی کی بولیوں (’ا‘ پر ختم ہونے والی) کے غیر محسوس ارتقا کا نتیجہ تھی ، اور اسے اولین ہندوستانی مسلمانوں کی پنجابی زبان سے تقویت حاصل ہوئی تھی۔یہ آگے چل کر دہلی کے بازاروں میں بولی جانے لگی کہ دہلی بانگڑو کے علاقے میں واقع ہے جہاں ’ا‘ پر ختم ہونے والی بولی رائج ہے۔ یہ دہلی کے ترک حکمرانوں کے دربار یا لشکر میں ارتقا پذیر ہونے والی کوئی مصنوعی زبان نہ تھی۔ اس کا پہلا نام ’’ ہندی‘‘ یا ’’ ہندوی‘‘ تھا جس کا سادہ سا مطلب ہے ہندوستان یا ہند کی یا ہندووٗں کی زبان۔ اس کا دوسرا نام ’’ زبان اردو ‘‘ یا لشکر کی زبان بہت بعد کی یعنیٰ سترھویں صدی کے اواخر کی پیداوار ہے۔ اس زمانے میں دہلی کا مغل شہنشاہ دکن کی مسلم ریاستوں اور مراٹھوں کے خلاف پے در پے لشکر بھیج رہا تھا اور ان کی قیادت کر رہا تھا اور اسی کے ساتھ دہلی کی زبان دکن میں اپنا سکہ جماتی جا رہی تھی۔ ‘‘ سہیل بخاری کا نظریہ بھی یہی ہے وہ اپنے ایک مضمون میں رقم طراز ہیں۔ ’’ دراصل اردو اور ہندی ایک ہی زبان کے دو روپ ہیں جسے ماہرین علم ِ زبان نے کھڑی بولی کا نام دیا ہے ۔ ان کے موجودہ روپوں میں دو فرق واضح ہیں ، ایک لپی اور دوسرا دخیل الفاظ۔ علمِ زبان کے لحاظ سے دونوں کے یہ اختلافات قابلِ التفات نہیں کیونکہ ان سے زبان کی بنیادی خصوصیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کھڑی بولی کی قدیم تاریخ اردو زبان کا بھی ایسا ہی اہم حصہ ہے جیسا ہندی کا۔‘‘ گیان چند جین کے مطابق بھی اردو کی اصل کھڑی بولی ہے وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔ ’’ اردو کی اصل کھڑی بولی اور صرف کھڑی بولی ہے۔ کھڑی بولی دہلی اور مغربی یوپی کی بولی ہے ۔ کسی کی مجال نہیں کہ یہ کہہ سکے کہ یہ پنجاب کی زبان پنجابی کی اولاد ہے ۔ اگر کھڑی بولی پنجابی سے نہیں نکلی تو اردو بھی پنجابی سے نہیں نکلی ۔ ‘‘ وہ شوکت سبزواری اور سہیل بخاری سے اتفاق کرتے ہیں اور لکھتے ہیں۔ ’’ میں شوکت سبزواری اور سہیل بخاری سے اتفاق کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ لسانیاتی نقطہ نظر سے اردو ، ہندی ، کھڑی بولی ایک ہیں۔ اردو کھڑی بولی کا وہ روپ ہے جس میں عربی فارسی الفاظ کسی قدر زیادہ اور تت سم سنسکرت الفاظ تقریباً نہیں کے برابر ہوتے ہیں، لیکن اس خصوصیت کے باعث اردو کھڑی بولی سے علٰیحدہ زبان نہیں ہو جاتی ۔‘‘ مزید لکھتے ہیں ۔’’ اردو کے آغاز کو دو منزلوں میں ڈھونڈنا چاہئے ، اول کھڑی بولی کا آغاز، دوسرے کھڑی بولی میں عربی فارسی لفظوں کا شمول ، جس کا نام اردو ہو جاتا ہے۔ میر امن سے لے کر ڈاکٹر مسعود حسین خاں تک نے دوسری منزل کے بارے میں بات کی ہے ، جب کہ ڈاکٹر شوکت سبزواری اور ڈاکٹر سہیل بخاری نے پہلی منزل پر زور دیا ہے۔ جارج ابراہیم گریر سن بھی اردو کا ارتقا کھڑی بولی سے ہی بتاتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ وہ کھڑی بولی کو ’ہندوستانی ‘ کہتا ہے اور اردو کو اس کا ادبی روپ قرار دیتا ہے جس میں عربی و فارسی کے الفاظ زیادہ ہوتے ہیں ۔ وہ کھڑی بولی کے دوسرے روپ کو جس میں سنسکرت کے تتسم الفاظ کی کثرت ہوتی ہے ہندی کہتا ہے ۔
وکت سبزواری کے نزدیک مغربی ہندی ایک طرح کی خیالی زبان ہے وہ مغربی ہندی کے درمیان سے نکل کر اردو اور پراکرت کی درمیانی کڑی اپ بھرنش کو مانتے ہیں اور اردو کا ارتقا پراکرت کی ایک شکل پالی کو مانتے ہیں۔اس امر کی طرف اشارہ ڈاکٹر شوکت سبزواری نے کیا ہے کہ اردو پالی بھاشا سے نکلی ہے۔ پالی پراکرت کی ہی ایک قسم ہے ۔ اس میں وہ خصوصیات پائی جاتی ہیں جو کسی پراکرت کو سنسکرت سے ممیز کرتی ہے۔ قدیم ہند یورپی زبان کے علماء اس امر پر متفق ہیں کہ ( اے اور اوَ) قدیم آوازیں تھیں۔ (اَے) اور (اَو) ان کی ارتقائی شکلیں ہیں۔ خود ’’رگ وید‘‘ میں بھی ان کا متبادل ملتا ہے۔ ویدک سنسکرت میں (اَے) اور (اَو) کا تلفظ دوہرے مصوطے کے طور پر ہوتا تھا لیکن کلاسکل سنسکرت کے زمانے میں اس کے تلفظ میں فرق پیدا ہو گیا۔ اردو میں پراکرت کی (اَے) اور (اَو) آوازیں بہ دستور موجود ہیں ۔ شوکت سبزواری کے اس نظریہ پر لسانی نقطہ نظر سے اعتبار کرنا دشوار ہے کیونکہ ان کے مطابق اردو اور پالی کا منبع ایک ہی ہے اور اردو پالی یا پراکرت سے نکلی ہے کا نظریہ مان لینے پر اردو زبان کی تاریخ کو کئی سال پیچھے لے جانا پڑیگا جو کہ ٹھیک امر نہیں ہے۔ دیگر بات یہ ہے کہ پالی ،ادب، فن اور فلسفے کی زبان ہے اور ہندوستانی عام زندگی کی عوامی زبان ہے ۔ پالی اپنے دور میں ایک ادبی معیار پاکر ٹھہر گئی اور اس کا مزید ارتقا رک گیا جبکہ ہندوستانی عوامی زبان ہونے کے باعث اور نکھرنے کے عمل میں تھی۔ پروفیسر احتشام حسین ’’ ہندوستانی لسانیات کا خاکہ ‘‘ کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ ’’ ایک عام خیال یہ ہے کہ ڈاکٹر شوکت سبزواری نے اردو کی ابتداء کا سراغ پالی میں تلاش کرنا چاہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شوکت سبزواری نہ تو پالی کو اردو کا ماخذ تسلیم کرتے ہیں اور نہ اردو کا سراغ پالی میں تلاش کرتے ہیں ۔ اس کی تردید انھوں نے ’’داستان زبان اردو ‘‘ کے پیش لفظ میں خود ہی پیش کر دی ہے یہ بات ضرور ہے کہ وہ پالی اور اردو میں بعض لسانی مماثلتوں کی بنا پر دونوں کے تعلق ارو رشتے پر زور دیتے ہیں۔ شوکت سبزواری کے مطابق شورسینی میں سنسکرت ’’ت‘‘ ہر جگہ ’’ د‘‘ ہو جاتی ہے لیکن پالی میں وہ بہ دستور ’’ت‘‘ ہی رہتی ہے اور اردو میں بھی یہی قاعدہ ہے۔بعض لاحقے پالی اور اردو میں مشترک ہیں مثلاً ’’وا‘‘ (والا) پالی میں بھی ہے جیسے ’’گنوا‘‘ (گن والا ) اور اردو میں بھی ہے جیسے پٹوا، پوروا ، پچھوا وغیرہ ۔ اس کے علاوہ ان کا خیال ہے کہ ضمیر واحد متکلم ’’میں ‘‘ بھی پالی سے لی گئی ہے۔’’ہو‘‘ ایک فعل معاون جو ایک مستقل اور آزاد مادہ ہے ، پہلوی میں بھی تھا اور پالی میں بھی۔ اردو میں اس کا وجود بتاتا ہے کہ اردو اور پالی کا ماخذ ایک ہی ہے۔ بمطابق ان کے ’’تھا ‘‘، اردھ ماگدھی ’’ہو تھا‘‘ سے مشتق ہے اور چوںکہ اردھ ماگدھی ڈاکٹر سکینہ کے خیال کے مطابق پالی سے بہت زیادہ مشابہ ہے اس لئے اردو پالی سے ہی مشتق ہے۔ شوکت سبزواری بھنڈارکر کے حوالے سےثابت کرتے ہیں کہ سنسکرت ’’کرتہ‘‘ کا روپ پالی کے ایک کتبے میں ’’کِستَ‘‘ ہے ۔ اردو مصدر ’’کرنا‘‘ کی اصل یہی ہے۔
اس نظریہ کو پروفیسر مسعود حسین خاں نے اپنی تصنیف ’’مقدمہ تاریخ زبان اردوـ‘‘ میں پیش کیا ہے۔انہوں نے شیرانی کے ’’ پنجاب میں اردو‘‘ کے نظریہ پر تنقید کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ قدیم اردو اور دکنی کی جو خصوصیات شیرانی نے پمجابی سے منسوب کی ہیں وہ د اصل دہلی اور نواح دہلی کی بولیوں میں اور بلخصوص ہریانوی میں بھی پائی جاتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں بقول ان کے قدیم اردو کا پنجابی پن اس کا ہریانوی پن ہے۔ محمود حسین خان کے مطابق دہلی شہر شار بولیوں کے سنگم پر واقع ہے ۔ یہ بولیاں ہیں کھڑی بولی، برج بھاشا، ہریانوی اور میواتی۔ ہریانوی دہلی کے شمال مغرب میںبولی جاتی ہے کیونکہ یہ شہر جمنا کے مغرب میں ہریانہ سے لگا ہواہے۔ دہلی کے شمال مشرق اور جمنا پار میں کھڑی بولی کا چلن ہے۔ دہلی کے جنوب مشرق میں برج کا اثر شروع ہو جاتا ہے اور جنوب مغربی حصے میں میواتی بولی جاتی ہے۔ مسعود حسین خاں نے اردو کے ارتقا میں ان تمام بولیوں کے اثرات کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے اور اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ ہریانی نے قدیم اردو کی تشکیل میں حصہ لیا جب کہ کھڑی بولی نے جدید اردو کا ڈول تیار کیا ، برج بھاشا نے اردو کا معیاری لب و لہجہ متعین کرنے میں مدد دی ارو میواتی نے قدیم اردو پر اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔ نواح دہلی کی ان بولیوں کے تقابلی مطالعے اور قدیم دور کے تحریری مواد کے لسانیاتی تجزیے کے بعد مسعود حسین خاں نے جو نظریہ پیش کیا وہ یہ ہے کہ نواح دہلی کی یہ سبھی بولیاں اصل میں اردو کا اصل منبع ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ۔’’ اس لئے ’’زبان دہلی و پیرامنش‘‘ ( نواح دہلی کی بولیاں) اردو کا اصل منبع اور سرچشمہ ھے۔ اور ’’حضرت دہلی ‘‘ اس کا حقیقی مولد و منشاء ۔‘‘ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین کر لی جائے کہ مسعود حسین خاں سے تقریباً ۱۵ سال پہلے ژول بلاک نے اپنے مضمون ’’ ہند آریائی لسانیات کے بعض مسائل ‘‘ میں اردو پر ہریانوی کے اثرات کی طرف اشارہ کیا تھا اس بات کی تائید میں ، ژول بلاک کے قول کو خود مسعود حسین نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ ’’ اس میں شک نہیں کہ پنجاب پہلا صوبہ ہے جو مسلمانوں کے زیر اقتدار آیا اور عرصہ تک رہا ۔ اسی لئے پنجابی اور اردو کی مماثلت یاد رکھئے لیکن یہ اس قیاس کے مانع نہیں کہ ہندی لشکروں کے جو لوگ پہلے پہل اپنی زبان کو دکن لے گئے پنجاب سے متعلق تھے ، بلکہ مشرقی پنجاب کے ضلع انبالہ اور شمالی دوآبہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ مغربی روہیلکھنڈ کے متعلق میں تحقیق سے نہیں کہہ سکتا کیونکہ ان اضلاع کی اردو نما زبان شاید بعد کے اثرات کی پیداوار ہے۔‘‘ بعد کو ژول بلاک کی تحریروں ہی سے متاثر ہو کر ہریانوی کی اہمیت کے بارے میں ڈاکٹر زور اپنی کتاب ’’ ہندوستانی لسانیات ‘‘ یوں رقم طراز ہیں ۔’’ یہاں ایک بات اور مد نظر رکھنی چاہئے کہ اردو پر بانگڑو یا ہریانوی زبان کا بھی قابل لحاز اثر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زبان دہلی کے شمال مغرب میں انبالہ کے اطراف میں اس علاقہ میں بولی جاتی ہے جو پنجاب سے دہلی آتے ہوئے راستہ میں واقع ہے اور دہلی پر حملہ کرنے والوں یا وہاں کے حکمرانوں کے ہمراہ اسی علاقے کے رہنے والے بہیر و بنگا کی حیثیت سے دہلی اور اس کے نواح میں آکر آباد ہوئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فاتح و مفتوح کے میل جول سے جو زبان بنتی چلی آ رہی تھی اس میں ہریانی عنصر بھی شامل ہو گیا۔ ‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو کے آغاز کے سلسلے میں مسعود حسین خاں نے دہلی و نواح دہلی کی تمام بولیوں میں ہریانوی کو ہی سب سے زیادہ اہمیت دی ہے اور قدیم اردو کو براہ راست ہریانوی سے تشکیل پزیر بتایا ہے جس پر رفتہ رفتہ کھڑی بولی کے اثرات پڑتے ہیں ، لیکن ان کے یہ خیالات ۱۹۸۷ ۱۹۸۷ ء سے پہلے کے ہیں ۔ انہوں نے جب اس کتاب کا ساتواں جدید ایڈیشن تیار کیا تو اپنے نظریہ میں بھی ترمیم کرتے ہوئے اردو کے آغاز کے سلسلے میں ہریانوی کے بجائے کھڑی بولی کو اولیت دی ۔ ان کا پہلے کا بیان ملاخطہ ہو۔ ’’ قدیم اردو کی تشکیل براہ راست ہریانی کے زیر اثر ہوئی ہے ۔ اس پر رفتہ رفتہ کھڑی بولی کے اثرات پڑتے ہیں۔ ‘‘ لیکن ۱۹۸۷ء میں ترتیب کردہ ساتوٰن جدید ایڈیشن میں وہ رقم طراز ہیں۔’’قدیم اردو کی تشکیل براہ راست دوآبہ کی کھڑی اور جمنا پار کی ہریانوی کے زیر اثر ہوئی ہے۔ ‘‘ مسعود حسین خاں کے اس نظریہ کے مطابق اردو نواح دہلی کی دو زبانوں ہریانوی اور کھڑی بولی سے پیدا ہوتی ہے ۔
اس نظریہ کی بنیاد یہ ہے کہ دو یا دو سے زیادہ زبانوں کے آپسی میل سے یا انکے باہم خلط ملط ہو جانے کے عمل سے ایک نئی زبان کا جنم ہوتا ہے۔ میر امّن ’’باغ و بہار ‘‘ کے دیباچے میں اپنے اس نظریہ کو ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔ ’’جب اکبر بادشاہ تخت پر بیٹھے ، تب چاروں طرف کے ملکوں سے سب قوم ، قدردانی اور فیض رسانی اس خاندانِ لاثانی کی سن کر، حضور میں آکر جمع ہوئے، لیکن ہر ایک کی گویائی اور بولی جُدی جُدی تھی ، اکٹھے ہونے سے آپس میں لین دین ، سودا سلف، سوال جواب کرتے ، ایک زبان اردو کی مقرر ہوئی۔‘‘ امام بخش صہبائی نے بھی کہا ہے کہ فارسی اور ہندی الفاظ کے خلط ملط سے اردو وجود میں آئی ۔ ان کا یہ بیان ’’ پنجاب میں اردو ‘‘ میں محمود شیرانی نے نقل کیا ہے۔ ’’ شاہ جہاں آباد تیموریہ خاندان کے شاہ جہاں نے آباد کیا ۔ اس وقت فارسی کے بعض الفاظ اور ہندی کے اکثر الفاظ میں کثرت استعمال کے سبب تبدل و تغیر واقع ہوا اور اس خلا ملا سے جو بولی مروج ہوئی اس کا نام اردو ٹھہرا۔ ‘‘ مگر اس نظریہ پر تنقید کرتے ہوئی مرزا خلیل احمد بیگ اپنی کتاب ’’ اردو کی لسانی تشکیل ‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ’’اردو زبان کی ابتداء اور ارتقا کا مسئلہ ایک خالص لسانیاتی مسئلہ ہے لیکن جو لوگ لسانیات سے کما حقہ ، واقفیت نہیں رکھتے اور ہند آریائی زبانوں کے تاریخی ارتقا ، نیز ان کے صرفی و نحوی اصولوں اور صوتی تبدیلیوں پر نظر نہیں رکھتے وہ جب اس مسئلے پر غور کرتے ہیں تو محض قیاس آرائی سے کام لیتے ہیں اور بالعموم وہ غلط فہمیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ پہلی غلط فہمی کے نتیجے میں وہ اردو کو ایک کھچڑی یا ’ملواں‘ زبان قرار دیتے ہیں ، یعنیٰ ایک ایسی زبان جو مختلف زبانوں کے الفاظ کے اختلاط و آمیزش کے نتیجے میں وجود میں آئی ۔ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جب دو زبانیں آپس میں ملتی ہیں تو ایک تیسری زبان معرضِ وجود میں آ جاتی ہے ۔ ان کے نزدیک اردو زبان کی تشکیل بھی اسی عمل کا نتیجہ ہے۔ اس قسم کے نظریات رکھنے والے اہل علم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر زبان کی اپنی ایک اصل اور بنیاد ہوتی ہے جس سے وہ زبان تشکیل پذیر ہوتی ہے اور جس پر اس زبان کا ڈھانچہ یا کینڈا تیار ہوتا ہے ۔ محض دو زبانوں کا باہم اختلاط و ارتباط یا ’خلا ملا‘ ایک نئی زبان کی تشکیل پذیری کے لئے کافی نہیں ہوتا۔ لسانیات کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ زبان اپنی اصل ، اپنی ساخت اور بنیاد، نیز اپنے اصول و قواعد سے پہچانی جاتی ہے نہ کہ اپنے سرمایہ الفاظ سے۔ کسی زبان میں غیر زبانوں کے الفاظ کی موجودگی سے اس زبان کے بنیادی ڈھانچے میں کسی قسم کا فرق پیدا نہیں ہوتا ۔ ’فرہنگ ِ آصفیہ‘ میں تمام مندرج الفاظ کی تعداد ۵۴۰۰۹ بتائی گئی ہے ۔ اس میں عربی کے ۷۵۸۴ اور فارسی کے ۶۰۴۱ الفاظ شامل ہیں جن کی مجموعی تعداد ۱۳۶۲۵ ہے اور ان کا تناسب ۲۳ فی صد ہے۔ اگر اردو میں ۹۰ یا ۹۵ فی صد الفاظ عربی و فارسی زبانوں کے پائے جاتے تب بھی یہ زبان سامی یا ایرانی نہ کہلاتی ، بلکہ ہند آریائی ہی رہتی ، کیونکہ اردو زبان کے اصلی یا بنیادی سرمایے یا اس کے ترکیبی عناصر کا جن سے اس زبان کی تعمیر و تشکیل ہوئی ہے تعلق ہند آریائی سے ہے ، نیز وہ قدیم زبان جس سے اردو نے ارتقا پایا ہے ، ہند آریائی ہے۔ اردو کی اصل و اساس ، اس کے تشکیلی اجزا، نیز اس کے قواعدی ڈھانچے یا کینڈے کو نظر انداز کرکے محض اس کے سرمایہ الفاظ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے ایک ’ملواں‘ زبان قرار دینا گمراہ کن نظریہ ہے۔
یہ نظریہ پاکستان کے جناب فتح محمد ملک نے اپنی تصنیف ’’اندازِ نظر ‘‘ میں پیش کیا ہے۔ اس میں وہ اپنے ایک مضمون ’’ لسانی تحقیق کا سیاسی پہلو ‘‘ میں اردو کے مختلف روپوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اردو پنجاب ، دکن، سندھ ،دہلی میں سے کسی جگہ نہیں بلکہ اڑیسہ میں پیدا ہوئی ۔ بقول انکے اردو ہند آریائی زبان نہیں ہے بلکہ سنسکرت سے الگ خالص دراوڑی بولی ہے ، جو ہمیشہ سے اس ملک میں رائج تھی ۔ انکے مطابق اردو ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی سبھی بولیاں آریوں کے آنے کے وقت بھی یہاں بولی جاتی تھیں اور جب سے اب تک لگاتار بولی جا رہی ہیں۔ ان کی آوازوں، اصولوں اور ڈھانچوں میں کوئی فرق نہیں آیا ہے لیکن یہ ممکن ہے کہ ان کی تحریری شکلیں بدلتی رہی ہوں ۔ اس قسم کے نظریات کی ماہر لسانیات کی نظر میں کوئی وقعت نہیں ہے کیونکہ ان نظریات کی کوئی لسانی اہمیت نہیں ہے ۔ بلکہ کچھ عالم ایسے نظریات کو محض تفریح کا باعث مانتے ہیں۔ پروفیسر علی رفاد فتیحی کے مطابق خلاصہ یہ ہے کہ ۔ " مختصر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو ایک ہند آریائی زبان ہے ۔ اس کے تاریخی ارتقا کو شورسینی اپ بھرنش اور پراکرت کے ذریعہ قدیم آریائی سے مربوط کیا جا سکتا ہے ۔ جس کی نمائندہ زبان رگ وید کی سنسکرت ہے۔ تیرھویں عیسوی صدی کے آغاز یعنیٰ مسلمانوں کی فتح دہلی کے بعد اس زبان کا نیا ملواں روپ نمودار ہوتا ہے جسے ابتدائی زمانے میں ہندی، ہندوی اور زبانِ دہلوی کے نام سے یاد کیا گیا ۔ زبان ِ دہلوی کے مستند نمونے پندھرویں صدی کے وسط سے دکن میں ملتے ہیں جہاں یہ فتوحات دکن کے بعد پہنچی تھی۔ ابتداء سے اردو زبان عربی فارسی رسم الخت میں لکھی گئی ہے۔ اس کی صوتیات میں عربی فارسی آوازیں خ، ز، ف، ق، غ داخل ہیں۔ اس پر عربی فارسی لسانی اثرات محض اتفاقی نہیں جیسا کہ بنگالی، مرہٹی یا ہندی میں پائے جاتے ہیں بلکہ ان کی نوعیت بنیادی اور ترکیبی ہے جن سے قطع نظر اردو زبان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ عربی فارسی عناصر نے زبان کو اس طرح ڈھانپ لیا ہے کہ انیسویں صدی کے تمام محققین نے اس بولی کو پہچاننے میں لغزش کی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کی ابتداء کے متعلق مختلف نظریے پائے جاتے ہیں۔
راجستھانی کا تعارف : راجستھانی ان بولیوں کے مجموعے کا نام ہے جو خصوصاً راجستھان کے وسیع عریض خطے میںبولی جاتی ہے اور عموماً اس کا استعمال تھوڑے سے علاقائی تصرف کے ساتھ آگرہ سے لیکر مغرب میں سندھ تک اور مشرقی پنجاب کی جنوبی سرحد سے لیکر گجرات تک کے باشندے کیا کرتے ہیں۔ جان بیمر نے انہیں راجپوتی بولیاں کہا ہے مگر اکثر ماہرین لسانیات نے انہیں راجستھانی لکھا ہے۔ جارج ابراہیم گریرسن نے اپنے لسانی جائزے میں راجستھانی کو اندرونی دائرہ کی زبانوں کے وسطی گروہ میں شامل کیا ہے اور مغربی ہندی سے اس کے خصوصی تعلق کی نشان دہی کی ہے۔ ویسے بھی مغربی ہندی اور راجستھانی رشتہ کے لحاظ سے سگی بہنیں ہیں اور ان دونوں کا تعلق اس پراکرت سے ہے جو ’’ بہار سے سندھ تک اور پنجاب سے مالوا تک پھیلی ہوئی تھی‘‘ ۔۱ ۱۔ کیفیہ ؛ کیفی، پنڈت برج موہن دتا تریہ (لاہور : مکتبہ معین الادب) ص ۷ ۲ بعض نے علاقائی نسبت سے اس کا نام شورسینی پراکرت لکھا ہے ۔ بہر حال راجستھانی وہ بولی ہے جو اب بھی راجستھان میں بولی جاتی ہے مگر عہدِ قدیم اس کا حلقہ اثر موجودہ راجستھان سے کہیں زیادہ وسیع تر علاقہ تھا ۔ شمالی ہند کی زبان اور راجستھانی میں جو لفظی یگانگت پائی جاتی ہے وہ اس حقیقت کا ایک اہم سراغ دیتی ہے۔ بعض ماہرین لسانیات نے اس لفظی یگانگت کی وجہ مغربی ہندی کے راجپوتانہ کی طرف سفر کو قرار دیا ہے ۔ جارج گریر سن نے بھی اپنے ایک مقالے میں راجستھان کی طرف مغربی ہندی کے ایک دھارے کا ذکر کیا ہے اور تفصیل سے تاریخی حقیقت کو پیش کیا ہے کہ مدھیہ دیش کے باشندے راجستھان کی طرف ہجرت کر گئے اور وہاں جاکر انہوں نے ایک مستحکم سلطنت کی بنیاد ڈالی ۔ بات خواہ کچھ بھی ہو مگر جس طرح مغربی ہندی کا اثر راجستھانی پر پڑا اسی طرح راجستھانی بھی مغربی ہندی کے علاقوں میں اجنبی نہیں رہی تھی اور خصوصاً مسلمانوں کی ہندوستان میں آمد کے بعد تو شمالی ہند کے بعض علاقوں میں راجستھانی کا بہت اثر پڑا۔ راجستھانی زبان کی قدامت اور اس کا حلقہ اثر راجستھانی ایک قدیم زبان ہے اور مسلمانوں کی آمد سے قبل ایک وسیع و عریض علاقہ اسکے حلقہ اثر میں تھا ۔ دہلی اور اس کے اطراف میں بھی راجستھانی زبان ہی بولی جاتی تھی۔ حتیٰ کہ برج کے علاقے بھی اس کے اثر سے خالی نہ تھے یہی وجہ ہے کہ برج اور راجستھانی میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہی بات پنجابی، سندھی اور گجراتی کے لئے بھی کہی جا سکتی ہے کیونکہ ان سبھی زبانوں میں راجستھانی عناصر آج بھی موجود ہیں۔ اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جارج گریر سن رقم طراز ہیں۔ "Rajasthani is the language of Rajasthan, it is spoken in Rajputana and the western portion of central india, and also in the neighbouring tracts of central provinces, Sind and Punjab. to the east it shades off into Bundeli dialect of western hindi,in Gwalior state Brij bhakha, in the state of Karoli and Bharatpur and in the British district of Gurgaon. To the west it gradually becomes Punjabi, Lahinda and Sindhi through the mixed dialects of indian desert, and, directly, Gujrati in the state of Palanpur."{ FR 5236 } ایک اور مقام پر وہ راجستھانی کے بارے میں رقم طراز ہیں۔ ــ"Rajasthani in the form of Marwari can be heard all over India. There is hardly a town where the thrifty denizen of sands of western and northern Rajputana has not found his way to fortune, from the petty grocer's shop in a deccan village to most extensive banking and broking connection in the commercial capital of both East and West India." 1 { FR 5241 } حافظ محمود خاں شیرانی نے دہلی کی قدیم زبان کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’ یا تو وہ راجستھانی ہوگی یا برج‘‘{ FR 5242 } ڈاکٹر مسعود حسین خان راجستھانی کی ابتداء مغربی ہندی سے تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس کا سرچشمہ شورسینی پراکرت کو بتاتے ہیں بقول ان کے ’’در اصل گجرات کی اصل زبان بیرونی شاخ سے تعلق رکھتی تھی جس کے بعض لسانی اثرات اب تک اس زبان میں پائے جاتے ہیں۔ گجراتی اور پنجابی کی طرح راجستھانی میں بھی بیرونی زبانوں کے بعض نشانات پائے جاتے ہیں ۔‘‘ { FR 5243 } یہ بات صحیح بھی ہے کیونکہ شورسینی پراکرت ہندوستان کی قدیم ترین زبانوں میں سے ہے اور راجستھانی بھی ایک قدیم زبان ہے۔ دہلی پر مسلمانوں کی فتح سے قبل کی زبان کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ ۔ ’’ مسلمانوں کے فتح دہلی سے قبل راجپوتی عہد میں زبان کا جو کینڈا تھا وہ نہ برج بھاشا ہے اورنہ کھڑی بولی بلکہ اس عہد کی قدیم اپ بھرنش روایات میں جکڑی ہوئی زبان ہے جس پر راجستھانی کا اثر نمایاں ہے‘‘ ڈاکٹر مسعود حسین خاں کا یہ قول بھی راجستھانی کی قدامت اور اس کے وسیع اثرات کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے ۔ اس قول کی صداقت کی دلیل میں یہ بات بھی اہم ہے کہ سلطان محمد غوری کے ہندوستان پر حملہ کے وقت دہلی اور اس کے ارد گرد کا علاقہ چوہان راجپوتوں کے زیرِ نگیں تھا اور شمالی ہند پر راجپوتوں کے سیاسی غلبے کے ساتھ ساتھ یہاں کی تہذیب اور زبان پر بھی راجپوتی اثرات تھے۔ اور اس دور میں جو زبان تھوڑے تھوڑے تصرف کے ساتھ ملک کے ایک وسیع و عریض خطہ میں رائج تھی وہ راجستھانی ہی کی ایک قدیم شکل تھی۔ اسی لئے جارج گریرسن لکھتے ہیں کہ ’’راجستھانی، مارواڑی کی شکل میں پورے ہندوستان میں سنی جا سکتی ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کی آمد کے فوری بعد کے عہد کے شعرا و ادبا اور مسلم بزرگان دین، ہندوی زبان کے صوفی اور سنت شعراء کی تصانیف کا مطالعہ کیا جائے تو شمالی ہند کی قدیم زبان پر بھی راجستھانی کے نمایاں اثرات نظر آتے ہیں۔ دکنی شعراء کے کلام اور دکنی زبان و ادب پر راجستھانی کا بہت گہرا اثر صاف نظر آتا ہے اوریہ امر اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ اردو کے ارتقاء میں راجستھانی زبان کا بڑا اہم کرداررہا ہے۔بقول ڈاکٹر شوکت سبزواری۔’’ اردو (ہندوستانی) دوآبے کی زبان ہونے کی وجہ سے مرکزی حیثیت رکھتی ہے ۔ آس پاس کی تمام زبانوں سے اس نے فیض اٹھایا ہے ۔ ان میں پنجابی بھی ہے اور راجستھانی، گجراتی بھی۔ ایک لحاظ سے یہ زبانیں اردو کے مختلف روپ ہیں۔‘‘ { FR 5244 } اردد کے ارتقا میں راجستھانی کا کردار : اردو زبان کے ارتقا کے مختلف نظریات ماہر لسانیات اور اردو دانوں نے پیش کئے ہیں مگر اس مین کوئی بھی نظریہ کامل نہیں کہا جا سکتا ہے۔ اردو زبان کے سندھ میں پیدا ہونے کا نظریہ اس لئے صحیح معلوم نہیں ہوتا کیونکہ بقول نصیر الدین ہاشمی ’’ سندھ کے فاتحین کی زبان اس لحاظ سے جو زبان علم وجود میں آتی وہ عربی اور شورسینی سے مشترک ہوتی مگر چونکہ اردو میں فارسی کا حصہ زیادہ ہے اس لئے ہم یہ بات تسلیم کرنے کو مجبور ہیں کہ اردو کی ابتدا سندھ سے نہیں ہوئی ہے۔ ‘‘{ FR 5245 } دکن سے اردو کی ابتدا کے نظریہ پر نصیر الدین ہاشمی لکھتے ہیں ’’ جو امور سندھ سے اردو کی ابتداء ہونے کے مانع ہیں وہی امور یہاں بھی مانع نظر آتے ہیں ۔ اس لئے سرِ دست ہم دکن کو بھی اردو کا مولد نہیں قرار دے سکتے۔‘‘ ۹ ۹۔ہاشمی ؛ نصیر الدین : دکن میں اردو تیسرا ایڈیشن(دہلی ؛ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ۔ ۲۰۱۲) ص ۳۶ پنجابی زبان کے بارے میں محی الدین قادری زور کی رائے ہے کہ ’’ پنجابی زبان اردو کی ماں نہیں ہو سکتی بلکہ بہن ہو سکتی ہے۔‘‘ { FR 5246 } ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور کی تحقیقات کی رو سے اردو کا سرچشمہ وہ پراکرت زبان ہے جو مسلمانوں کی آمد کے وقت پیشاور سے لیکر الہٰ آباد تک بولی جاتی تھی ۔ یہ زبان اور کوئی نہیں بلکہ راجستھانی زبان ہے۔ اس بات کی تسدیق گریر سن کے اس قول سے بھی ہوتی ہے کہ’’ راجستھانی ، مارواڑی کی شکل میں پورے ہندوستان میں سنی جا سکتی ہے۔ مشکل سے ہی کوئی ایسا شہر یا قصبہ ہوگا جہاں راجپوتانہ کے ریتیلے ٹیلوں سے نکل کر اس زبان نے اپنی جڑیں نہ جمائی ہوں۔دکن کے گائوں کے پنساری کی دکان سے لیکر مشرقی اور مغربی ہندوستان کی تجارتی راجدھانیوں تک یہ زبان مقبول ہے۔‘‘ { FR 5247 } ہندوستان میں،بیرونی حکمرانوں کا، جن لوگوں سے سابقہ پڑا تھا ان میں سے اکثر راجپوت سردار اور راجا تھے اور یہ سبھی راجستھانی زبان بولتے تھے۔چنانچہ ڈاکٹر اعجاز حسین اپنی تصنیف ـمختصر تاریخ ادب اردو صفحہ ۲۳ــ پر رقم طراز ہیں ’’ راجستھانی کا حلقہ اثر آگرہ تک تھا۔‘‘ انہوں نے برج بھاشا اور راجستھانی کو اردو کی ترقی میں سدِ راہ بتایا ہے یعنی جن علاقوں میں اردو پروان چڑہ رہی تھی وہاں راجستھانی زبان کا استعمال کیا جا رہا تھا۔ اکبر کی بیوی اور سلیم کی ماں ، جودھابائی راجستھانی تھیں اور راجستھانی زبان ہی بولتی تھیں۔ مغلوں کے راجپوتوں سے اچھے تعلقات تھے اور ان کی شاہی محلات میں بے دریغ آمد و رفت تھی اس کے علاوہ کئی راجپوت شہزادیاں شاہی محلات کی زینت تھیں لہٰذا شاہی محل میں راجستھانی زبان کا رواج عام ہونا کوئی عجیب بات نہیں ہو سکتی۔ شاہی محلات میں اکثر و بیشتر ہندو سنگیت کا اہتمام کیا جاتا تھا جس میں بھی راجپوت سرداروں کی موجودگی عام تھی اس کے علاوہ اکبر کے دربار کے نو رتنوں میں شامل ابو الفضل اور فیضی بھی راجستھان کے ہی تھے۔ اکبر کے نام سے جو دوہے منسوب کئے جاتے ہیں ان میں بھی راجستھانی کا اثر نمایاں نظر آتا ہے ۔ ۔مثلاً اکبر کا ایک دوہا ہے۔ پیتھل سوں مجلس گئی، تان سین سوں راگ ہانسبو، روبو، بولبو گیئو بیربل کے ساتھ یہاں ’’بو‘‘ بطور علامت مصدر استعمال ہوا ہے جو راجستھانی مصدر ہے۔ راجستھانی میں اردو کے ’’نا‘‘ مصدر کی جگہ ’’بو‘‘ یا ’’نو‘‘ مصدر کا استعمال عام ہے۔ اس کے علاوہ ـ’’گیئو‘‘ بھی ’و‘ ، راجستھانی میں ، اردو کے ’’الف‘‘ کا متبادل ہے۔ لفظ ’’سوں‘‘ راجستھانی میں ’’سے‘‘ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اکبر کا سپہ سالار عبد الرحیم خان خانہ بھی راجستھانی زبان سے بخوبی واقف تھا اور وہ شمال مشرقی راجپوتا نہ کی زبان ، برج، کا شاعر تھا۔ڈاکٹر مسعود حسین خاں کا یہ قول بھی راجستھانی کی قدامت اور اس کے وسیع اثرات کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے کہ ۔ ’’ مسلمانوں کے فتح دہلی سے قبل راجپوتی عہد میں زبان کا جو کینڈا تھا وہ نہ برج بھاشا ہے اور نہ کھڑی بولی بلکہ اس عہد کی قدیم اپ بھرنش روایات میں جکڑی ہوئی زبان ہے جس پر راجستھانی کا اثر نمایاں ہے‘‘ اس قول کی صداقت کی دلیل میں یہ بات بھی اہم ہے کہ سلطان محمد غوری کے ہندوستان پر حملہ کے وقت دہلی اور اس کے ارد گرد کا علاقہ چوہان راجپوتوں کے زیرِ نگیں تھا اور شمالی ہند پر راجپوتوں کے سیاسی غلبے کے ساتھ ساتھ یہاں کی تہذیب اور زبان پر بھی راجپوتی اثرات تھے۔ اور اس دور میں جو زبان تھوڑے تھوڑے تصرف کے ساتھ ملک کے ایک وسیع و عریض خطہ میں رائج تھی وہ راجستھانی ہی کی ایک قدیم شکل تھی ۔اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کی آمد کے فوری بعد کے عہد کے شعرا و ادبا اور مسلم بزرگان دین، ہندوی زبان کے صوفی اور سنت شعراء کی تصانیف کا مطالعہ کیا جائے تو شمالی ہند کی قدیم زبان پر بھی راجستھانی کے نمایاں اثرات نظر آتے ہیں۔ دکنی شعراء کے کلام اور دکنی زبان و ادب پر راجستھانی کا بہت گہرا اثر صاف نظر آتا ہے اوریہ امر اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ اردو کے ارتقاء میں راجستھانی زبان کا بڑا اہم کرداررہا ہے۔ نصیر الدین ہاشمی بھی ڈاکٹر مسعود حسین خان سے اتفاق رکھتے ہوئے رقم طراز ہیں۔ ’’ مسلمان فاتحین شمال کی جانب سے ہندوستان میں داخل ہوئے تو اوّل انہوں نے پنجاب میں قیام کیا مگر اس کے بعد دہلی کی جانب پیش قدمی کی ۔ مسلمانوں کے صدہا خاندان جو ترک، مغل اور افغان تھے جن کی زبان عام طور سے زیادہ تر فارسی تھی ، پنجاب سے لیکر دہلی تک آباد ہوئے۔ اس زمانہ میں یہاں ’’ جدید ہند آریائی دور کی پراکرت ‘‘ زبان بولی جاتی تھی اسی زبان میں غیر ملکیوں کی زبان کی آمیزش ہونے لگی اور اس امتزاج سے اردو کی پیدائش ہوئی۔ "{ FR 5248 } یہ جدید ہند آریائی زبان دراصل قدیم راجستھانی ہی ہے جس کا ذکر جان بیمراورجارج گریرسن سے لیکرحافظ محمود خاں شیرانی، مسعود حسین خان ، نصیر الدین ہاشمی، ڈاکٹر اعجاز حسین اور محی الدین قادری زورتک نے کیا ہے۔راجستھانی زبان کی قدامت اور اس کے حلقہ اثر کے بارے میں جاننے کے بعد تو یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ اردو زبان کی ابتدا جس زبان سے ہوتی ہے وہ نہ تو برج ہے اور نہ کھڑی بولی اور ہریانوی بلکہ وہ زبان راجستھانی ہے۔ دکن میں اردو کی ابتدا کے بارے میں یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ محمد تغلق کے زمانے میں بڑی تعداد میں شمالی ہند کے لوگوں نے دکن کی طرف نقل مکانی کی اور پھرایک بڑے گروہ نے وہیں بودو باش اختیار کر لی۔بقول نصیر الدین ہاشمی’’ اور یہ فاتح جو زبان دکن لے کر آئے تھے وہ یہاں آزادانہ نشو نما حاصل کرنے لگی کیونکہ اس کے مقابل کوئی اور زبان جو اسکے آگے بڑھنے میں رکاوٹ پیدا کرے یہاں نہیں تھی۔" { FR 5249 } محمد تغلق کے ساتھ گروہ در گروہ دکن آنے والے سبھی طبقات کے یہ لوگ اگر کھڑی بولی ، برج یا ہریانوی زبان کے ساتھ دکن آئے تھے تو دکنی اردو میں ان زبانوں کے الفاظ اور صرفی و نحوی خصوصیات کے بجائے بڑی تعداد میں راجستھانی الفاظ اور راجستھانی زبان کی صرفی و نحوی خصوصیات کیوں پائی جاتی ہیں ؟ یہ امر اس بات کو اور یقینی بناتا ہے کہ اس دور میں دکن آنے والے یہ اشخاص دراصل راجستھانی اور فارسی زبان کے ساتھ دکن میں داخل ہوئے تھے۔اس سے بہت قبل سندھ میں عربی زبان کی آمیزش سے سندھی وجود میں آ چکی تھی جس کا رسم الخط عربی تھا اور دکن کے علاقوں میں بھی عربی الفاظ عام بول چال کا اہم حصہ بن چکے تھے اور جب شمالی ہند کے لوگوں کے ساتھ فارسی اور راجستھانی زبان دکن میں داخل ہوئی تو دکن کی عربی آمیز زبان اور شمالی ہند سے آئی راجستھانی اور فارسی کے اشتراک سے دکنی اردو وجود میں آئی اور اس نے اپنا عربی فارسی رسم الخط پایا۔
اردو کی ساخت : اردو کو ایک مخلوط زبان کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے مقامی اور بیرونی زبانوں سے کافی استفادہ کیا ہے خصوصاً عربی اور فارسی زبان سےاس لئے اردو کی ساخت میں جہاں ایک جانب کشادگی اور وسعت پیدا ہوئی ہے وہیں دوسری جانب بہت سی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو گئیں ہیں۔ لسانی ساخت کے انفرادی پہلو : اردو میں کل آوازوں کی تعداد 36 ہے جس میں سے 3 حروف علت اور باقی حروف صحیح ہیں ۔ اس کے علاوہ 14 ہکاری آوازیں بھی ہیں۔ اردو کے حروف کی انفرادیت کا ایک پہلو یہ ہے کہ حروف کی تختی میں مقامی اور غیر مقامی یعنی فارسی،عربی،ترکی اور ہندی زبان کی آوازوں کی نمائندگی کرنے والے حروف ہیں۔ مثلاً (1) عربی کے حروف 28 (2) فارسی کے 4 حروف : پ، چ، ذ، گ (3) ترکی : ق (4) ہندی : ٹ، ڈ، ڑ اور تمام ہکاری آوازیں صرفی سطح پر انفرادیت : اردو الفاظ کی تین اقسام ہیں۔مفرد الفاظ جنہیں مزید توڑا نہیں جا سکتا جیسے چاند، ندی وغیرہ دوسرے مرکب الفاظ ہیں جو دو یا دو سے زائد الفاظ سے مل کر بنتے ہیں جیسے قلم دان، تاج محل وغیرہ۔ عموماً اردو میں مستعمل عربی اور فارسی کے الفاظ میں ان کی زبان کے قواعد کے اعتبار سے ہی تغیر اور تبدیلی کی جاتی ہے لیکن کہیں کہیں کچھ الفاظ کو اردو نے اپنے لسانی سانچے میں بھی ڈھالا ہے۔ نحوی سطح پر انفرادیت : اردو اردو میں عربی فارسی تراکیب کا استعمال بخوبی کیا جاتا ہے جیسے اضافت کا استعمال : چراغِ سحری، دردِدل۔ اسی طرح وائو عطف کا بھی بخوبی استعمال کیا جاتا ہے جیسے : خواب و خیال، عجیب و غریب۔اردو میں یوں تو اجزائے کلام کے مقام مقرر ہیں لیکن کسی حد تک وہ اختیاری بھی ہو جاتے ہیں۔ جیسے : آج تم بازار جانا۔تم آج بازار جانا۔ بازار آج تم جانا۔ لغت یا فرہنگ : ایک اندازے کے مطابق اردو میں عربی و فارسی الفاظ کی مجموعی تعداد 30 سے 35 فیصد ہیں۔ ان الفاظ کی نحوی حیثیت زیادہ تر(NOUN) اسما کی ہے۔کافی تعداد میں صفات بھی ملتی ہیں۔ ہندوستان کی کوئی بھی زبان ایسی نہیں ہے جو اس طرح کی انفرادیت رکھتی ہو۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان الفاظ کے ساتھ سابقے اور لاحقے دیسی ہی استعمال ہوتے ہیں۔ چند مثالیں ایسی بھی ہیں جہاں اردو نے واحد کے ساتھ جمع کی شکلیں بھی عربی و فارسی سے مستعار لے لی ہیں مثلاً استاد سے اساتذہ، فکر سے افکار، تصور سے تصورات وغیرہ
صوتی خصوصیات : دکنی اصوات (حروف تہجی) : دکنی زبان میں درج ذیل اصوات ہیں جن کی درجہ بندی ذیل میں درج ہے۔
ھ۔ کاری
غیر ھ۔ کاری
ھ۔ کاری
غیر ھ۔ کاری
ھ ۔کاری
غیر ھ۔ کاری
مصمتے (Consonants)
-
-
گھ
گ
کھ
ک
حلقی
-
-
جھ
ج
چھ
چ
تالوئی
-
-
ڈھ
ڈ
ٹھ
ٹ
معکوسی
نھ
ن
دھ
د
تھ
ت(ط)
دنتی
مھ
م
بھ
ب
پھ
پ
لبی
-
-
-
ش
-
س (ص، ث)
سینئے (Sibilants)
-
-
-
غ،ز،و
-
خ،ف
رگڑالو (Fricatives)
-
-
-
لـ
لھ
ل
پہلوئی (Laterals)
متنفّس
غیر متنفّس
ھ۔ کاری
غیر ھ۔ کاری
ھ۔ کاری
غیر ھ۔ کاری
ھ ۔کاری
غیر ھ۔ کاری
مصمتے (Consonants)
-
-
گھ
گ
کھ
ک
حلقی
-
-
جھ
ج
چھ
چ
تالوئی
-
-
ڈھ
ڈ
ٹھ
ٹ
معکوسی
نھ
ن
دھ
د
تھ
ت(ط)
دنتی
مھ
م
بھ
ب
پھ
پ
لبی
-
-
-
ش
-
س (ص، ث)
سینئے (Sibilants)
-
-
-
غ،ز،و
-
خ،ف
رگڑالو (Fricatives)
-
-
-
لـ
لھ
ل
پہلوئی (Laterals)
متنفّس
غیر متنفّس
مصوتہ : مختصر اَ ی اُ او
طویل آ ای اوٗ
ملواں مصوتہ : اَوْ اَئی
؍ق؍ کی ؍خ؍میں تبدیلی : (۱) دکنی اردو کی سب سے اہم اور نمایاں خاصیت اس کا ؍ق؍ کی آواز کو ؍خ؍ میں تبدیل کرنا ہے۔ مثلاً :
اخل (عقل) (سب رس)
خطرہ (قطرہ) (سب رس)
(۲) آوازوں کا مشدّد ہونا : دکنی زبان میں غیر مشدّد الفاظ کو بھی مشدّد کرنے کا طریقہ عام ہے۔ مثلاً ہوا ہوّا حلق حلّق
چونا چنّا ہاتھی ہتھّی
دکنی شاعروں کے یہاں الفاظ کو مشدّد کرنے کی ایک وجہ، شعر کا وزن قائم کرنا بھی ہے اور دکنی میں یہ رحجان عام ہے کیونکہ یہی مشدّد الفاظ کئی جگہ غیر مشدّد حالت میں بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔
(۳) تقلُّب : تقلُّب کا معنی ہے اُلٹ پھیر یا تبدیلی کر دینا ۔ دکنی زبان میں اصوات اور ہکاریت کی تقلیب پائی جاتی ہے۔
(الف) تقلیبِ اصوات : جب کسی لفظ میں حروف کی ترتیب بدل دی جائے تو اسے اصوات کی تقلیب کہا جاتا ہے مثلاً ؍ک؍ اور ؍چ؍ کے درمیان صوتی تقلیب کا ایک نمونہ ’’من لگن ‘‘ میں ہے۔ کیچڑ چیکڑ
(ب) ہکاریت میں تقلیبِ صوت : جب کسی لفظ میں ہکاریت ایک حرف سے ہٹ کر دوسرے حرف پر منتقل ہو جائے تو اسے تقلُّبِ ہکاریت کہتے ہیں مثلاً ۔
چھینتڑے (چیتھڑے) (پھول بن- یہاں ہکاریت ؍ت؍ سے ہٹ کر ؍چ؍ میں منتقل ہو گئی ہے)
کھندا (کندھا) یہاں ہکاریت ؍د؍ سے ہٹ کر ؍ک؍ میں منتقل ہو گئی ہے۔
پھتّر (پتھّر) (سب رس)
پھنکڑیاں(پنکھڑیاں) (سب رس)
جگھڑا (جھگڑا) (سب رس)
(۴) ہکاریت : ہکاری آوازیں اردوصوتیات کا اہم حصہ ہیں ۔ ہند آریائی زبان کی بہت سے آوازوں کی تحریری شکل عربی فارسی میں موجود نہیں تھی اس لئے ؍ھ؍ کا استعمال کرکے ان آوازوں کو شکل بخشی گئی جیسے بھ، پھ، تھ، ٹھ وغیرہ۔ دکنی میں ہکاری آوازوں کے استعمال کی کچھ خصوصیات پائی جاتی ہیں جو اسے اردو سے الگ کرتی ہیں ۔ یہ خصوصیات درجِ ذیل ہیں۔
(الف) ؍ہ؍ ہذف کر دینا : دکنی میں بعض ہکاری آوازوں میں ؍ہ؍ کو حذف کر دینے کا رحجان پایا جاتا ہے مثلاً۔
سکیاں (سکھیاں) (قلی قطب شاہ )
سُک (سُکھ) ( ارشاد نامہ)
پوُچ (پوچھ) (ارشاد نامہ)
دود (دودھ) (من لگن)
چڑنا (چڑھنا) (سب رس)
تماری (تمہاری) (سب رس)
پگلتا (پگھلتا) (سب رس) وغیرہ
(ب) ہکاریت کا اضافہ : دکنی میں غیر ضروری طور پر الفاظ میں بے وجہ ہکاریت پیدا کرنے کارحجان بھی عام ہے یعنی جہاں ہکاریت کی ضرورت نہیں ہے وہاں بھی ہکاریت پیدا کر دی جاتی ہے۔ اُلٹھانا (الٹانا) ’ایک بادشاہی کو اُلٹھانا ہے‘ (سب رس)
سنگھاتی (سنگاتی) ’ہمت مرداں کی سنگاتی‘ (سب رس)
پلکھاں (پلکاں) (پھول بن)
جھگمگ (جگمگ) ( ارشاد نامہ)
جھل (جل) (گلشن عشق)
پلٹھے (پلٹے) (سکھ سہیلا) وغیرہ
(ج) آخری ؍ہ؍ کو حذف کر دینا : دکنی میں لفظ کی آخری ؍ہ؍ کو حذف کر دینے کی روش بھی پائی جاتی ہے مثلاً۔ مُج (مُجھ)
کُچ (کُچھ)
دیک (دیکھ)
بوج (بوجھ )
(د) ہکاریت میں تقلُّب : ہکاریت میں تقلُّب کی امثال اوپر بیان کی جا چکی ہیں۔
(۵) غیر متحرک حرف کو متحرک کرنا : دکنی میں عربی فارسی کے الفاظ کو اپنے صوتی مزاج کے مطابق بنا کر استعمال کرنے کے لئے اس میں کچھ صوتی تبدیلیاں پیدا کیں جن میں غیر متحرک حرف کو متحرک کرنا بھی ایک ہے۔ دکنی زبان میں الفاظ کے آخری مصمتی خوشے باالعموم توڑ دئے جاتے ہیں مثلاً۔ حُکَم (حُکْم)
ظُلَم (ظُلْم)
عِلَم (عِلْم)
دھَرَم (دھرْم) (۶) معکوسی آواز کو غیر معکوسی میں تبدیل کرنا : دکنی اردو میں معکوسی آوازوں کو غیر معکوسی کرنے کی روش بھی پائی جاتی ہے ۔ ایسا تب کیا جاتا ہے جب کسی لفظ میں دو معکوسی آوازیں ایک ساتھ پائی جاتی ہوں ۔ ایسے لفظ میں پہلی معکوسی آواز کو غیر معکوسی(دندانی) آواز میں تبدیل کر دیا جاتا ہے مثلاً۔
ڈُھنڈنا (ڈھونڈنا) (سب رس)
تُٹنا (ٹوٹنا) (سب رس)
دانٹنا ( ڈانٹنا) (سب رس)
دھنڈورا (ڈھنڈورا) (سب رس)
داڑھی (ڈاڑھی) (سب رس (
(۷) مصوتوں میں تبدیلی : مصوتوں میں تبدیلی ، دکنی اردو کی نمایاں خاصیت ہے۔ دکنی میں بعض جگہ مختصر مصوتوں کی جگہ طویل مصوتوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور کہیں طویل مصوتوں کی جگہ مختصر مصوتوں کا استعمال نظر آتا ہے۔ اس کی امثال درج ذیل ہیں۔
(الف) تطویلِ مصوتہ : مختصر مصوتوں کو طویل مصوتوں میں تبدیل کر دینا مثلاً ۔
کال (کل) نہ گھال آج کا کام توں کال پر (کد مرائو پدم رائو)
آپنا (اپنا) سکھی آپنا جیو تو سب جہان (کدم رائو پدم رائو)
ساچ (سچ) (کدم رائو پدم رائو)
لاگا (لگا) (نو سر ہار)
ناہیں (نہیں) (نو سر ہار)
لوہو (لہو) (نو سر ہار) کوتا (کتّا) (کدم رائو پدم رائو)
جاگا (جگہ) (سب رس)
چھوپی (چھپی) (سب رس)
چاکھنا (چکھنا) (سب رس)
راکھنا (رکھنا) (سب رس)
(ب)تخفیف ِ مصوّتہ : طویل مصوتوں کو مختصر مصوتوں میں بدل دینا مثلاً۔
اسمان (آسمان) نہ بُہیں پردِ سے اور نہ اَسمان میں (قطب مشتری )
ہَتْ (ہات) کنگن ہَتْ کیا دیکھناں آرسی (کدم رائو پدم رائو)
بُند (بوند) (سب رس)
اَنچل (آنچل) (کلیات محمد قلی قطب شاہ)
گھنس (گھانس) (کلیات محمد قلی قطب شاہ)
پرِت (پریت) (سب رس)
پھُل (پھول) (سب رس)
چھلے (چھالے) (سب رس)
گُنگے (گونگے) (سب رس)
گھُنگھٹ(گھونگھٹ) (سب رس)
ہتھی (ہاتھی) (سب رس(
(۸) انفی آوازیں : دکنی زبان کی ایک نمایا خاصیت مصوتوں کو انفیانا ہے۔ مثلاً ۔
بولناں (بولنا) سو بولیا تجھے جو نہ تھا بولناں (کدم رائو پدم رائو) بونٹی (بوٹی) نہ جھاڑی نہ بونٹی ڈرے بائو کوں (کدم رائو پدم رائو)
توں (تو) (نو سر ہار)
کوں (کو) (نو سر ہار)
سپناں (سپنا) (نوسر ہار)
پیچھیں (پیچھے) (سب رس)
مُنج (مج) (دیوان قلی قطب شاہ ) وغیرہ
بعض الفاظ میں ؍ن؍ کی ہی آواز حزف ہو کر مصوتوں کی انفیت کا سبب بن جاتی ہے مثلاً۔
کنّکر (کنکر) ’مج طبع کو مُج گہر کوں کنّکر ‘ (گلشنِ عشق ص ۴۲)
پنکھی (پنّکھی) ( سیف الملوک و بدیع الجمال(
بعض الفاظ میں انفیت کو بالکل حذف بھی کر دیا جاتا ہے مثلاً۔
ما (ماں) (سب رس)
کو آ (کواں) (سب رس)
موچھیاں (مونچھیں) (سب رس)
گوانا (گنوانا) (سب رس)
(۹) ’الف ‘کا تلفظ ’ی‘ کرنا : الف مکسورہ کا تلفظ ’ی‘ کیا جانا دکنی بول چال میں عام ہے اور اکثر دکنی تحریروں میں بھی مل جاتا ہے مثلاً۔
یکیلے (اکیلے) (سب رس)
ییک (ایک) (سب رس)
دکنی اردو کی صرفی خصوصیات درج ذیل ہیں۔ (۱) مصوتہ کا اختصار : ایسے اسما جن کے پہلے اور دوسرے رکنوں (Syllable) میں طویل مصوطے آتے ہیں ان میں پہلا مصوتہ عموماً مختصر ہو جاتا ہے مثلاً۔ اَدمی اَسمان اَنکھ (۲) اسمِ کیفیت : دکنی اردو میں اسمِ کیفیت کی شکلیں درج ذیل ہیں۔ (الف) مرکب بہ اسم : بھائی پنا (سب رس) دشمناگی (دیوان ہاشمی بیجاپوری) (ب) مرکب بہ صفت : کڑوائی (سب رس) کڑواس (دیوان ہاشمی بیجاپوری) نَرمائی (پھول بن) (ج) فعل سے مرکب : چلنت (سب رس) بِسراٹ (دیوان ہاشمی بیجاپوری) (د) یائے زائد کے ساتھ : خوشبوئی (سب رس) (۳) اسمِ ظرف : دھُپ کالا (گرمی) (کلیات محمد قلی قطب شاہ) تھنڈ کالا (سردی) (دیوان ہاشمی بیجاپوری) (۴) اسمِ آلہ : چند عام اسما ملتے ہیں جیسے۔ چھننی(چھلنی)، لھوا (تلوار)، تیشا (تیشہ) (۳) جنس : (الف) بہت سے اسم جو موجودہ اردو میں مونث ہیں دکنی اردو میں مذکر لکھے جاتے ہیں مثلاً۔ ۱۔ کلیات محمد قلی قطب شاہ : دعا، ہستی، بلندی، مہکار، آس، عید، مجلس ۲ ۔ سب رس : راہ ، لذت، عداوت، راحت، نیتّ، جان ۳۔ پھول بن : راہ، فراست، آواز، بو، حمد، چھائوں ۴۔ کلیات غواصی : جھلکار، محبت، عمر، مدد، بھَوں، خواہش (ب) بعض اسما کا استعمال دکنی اردو میں مذکر اور مونث دونوں طرح سے کیا گیا ہے ۔ اکثر ایک ہی شاعر نے دونوںطرح سے استعمال کیا ہے مثالیں درج ذیل ہیں۔لفظ ’غزل‘ (مذکر) غواصی صاف باتاں سوںسراسر یو غزل تیرا (کلیات غواصی) (مونث) جو میں غواص مِٹھی یو غزل کھیا سو سن (کلیات غواصی) لفظ ’خنجر‘ (مذکر) ستم کا گر ننّگا خنجر جو ہوگا (بھول بن) (مونث) تیری خنجر جو ہے وہ جھِل جھِلائی (پھول بن) (ج)بعض اسما جو موجودہ اردو میں مذکر ہیں دکنی اردو میں مونث ملتے ہیں مثلاً۔ سب رس مقعود، ذکر، ادب، نائوں، خواب وغیرہ (۴) تعداد : دکنی میں اردو کی طرح واحد اور جمع کی دو ہی صورتیں ملتی ہیں۔ اس کے اصول درج ذیل ہیں۔ (الف) مصمتے پر ختم ہونے والے اسما کی جمع بنانے کے لئے اس میں ’اں‘ کا اضافہ کیا جاتا ہے مثلاً۔ کلیات محمد قلی قطب شاہ : عابداں، مالیاں، خیالاں کدمرائو پدم رائو : چیلاں، نو سر ہار : ہاتاں، لاجاں، سب رس : عورتاں،باتاں،دلاں،آنکھیاں،موتیاں،کتاباں، لوگاں ( ب) برج بھاشا کی طرح کہیں کہیں ’ن‘ سے مرکب جمع کے بھی نمونے ملتے ہیں مگر اسکا استعمال بہت کم ملتا ہے ۔ نو سر ہار میں یہ جمع کثرت سے ملتی ہے۔ امثال دیکھئے۔ ہاتن کھانڈے ترکش باند (شعر ۹۱۷) پھولن باڑی کمھلائی (شعر ۳۰۸) دوکھن سیتی بان بکھر (شعر ۳۰۷) (ج) جدید اردو کی (۔وں) کی جمع جس کا سرچشمہ کھڑی بولی ہے ، دکنی اردو میںبہت کم ملتی ہے۔ کھلے تھے پھول جھاڑوں پر ہر اک ٹھار (پھول بن۔ ص ۳۸) (۵) اسمائے ضمیر : اسمائے ضمیر کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔ ضمائر متکلم حالت واحد جمع فاعلی حالت میں، ہوں، اپے ہم ،ہمن، منا، ہمے، ہمیں مفعولی حالت مجے،منجے، منج،منج کوں، مجہ ہمنا،ہمنا کوں اضافی حالت مو، مج، مجھ، منج، میرا ہمن، ہمارا مندرجہ بالاضمائر متکلم کی مثالیں درج ذیل ہیں۔ ہوں(میں) نہ نایک ڈروں ہَوں نہ پایک ڈروں (کدم رائو پدم رائو : شعر ۸۶) اپے (میں، خود) جو نماز کو ںجائے تویو جاننا کہ اپے خدا کے حضور میں جاتا ہوں۔ (سب رس) ہمنا (ہم) ہمنا تمنا میں کیا جدائی ہے۔ (سب رس) ہمیں (ہم) ہمیں تم مل کر جائیں گے۔ (سب رس) ہمن (ہمارا) کدم رائو پدم رائو، (کلیات محمد قلی قطب شاہ) ہمن (ہم) تم ہمن میں قول کِیاںباتاں ہو یاں تھیاں رات بھر (کلیات محمد قلی قطب شاہ ص ۲۰) ہمنا کوں (ہمیں)کرتار اپنے پیار تھے ہمناں کوں دِکھلایا اَنَند(کلیات محمد قلی قطب شاہ ص ۲۳) منجے (مجھے) (کلیات غواصی) مجہ (مجھے) (پھول بن) مجھ (میرا) (پھول بن) مو (میرا) (کلیات محمد قلی قطب شاہ) منج (میرا) پلا منج یاد کی مَستی نہیں ہے مُنج خُمارا خوش(کلیات محمد قلی قطب شاہ ص ۲۳) ضمائرمخاطب حالت واحد جمع فاعلی حالت تو، توں ، ہمیں تم، تمن، تمنا، تمہیں مفعولی حالت تج، تجے تمن، تمہیں، تمنا کوں اضافی حالت تو، تج، توج، تجھ، تیرا تم، تمن، تمنا ، تمارا مندرجہ بالا ضمائر مخاطب کی مثالیں درج ذیل ہیں۔ توں (تو) جدا لگ سور ہے کر توں برس گانٹھاں آئند سوں (کلیات محمد قلی قطب شاہ ص ۴۹) تو (تو) تو ہر بال تھے راگ نیہہ کا اُوجاوے (کلیات محمد قلی قطب شاہ ص ۴۹) تمارا (تمہارا) جب تھے ہوا جگ میں تمارا نور پرگٹ چَو رُخَت (کلیات محمد قلی قطب شاہ ص ۱۹) تج (تیرا) تج تخلص ہے معاؔنی ، معنی کے گنج سوں بھَریا (کلیات محمد قلی قطب شاہ ص ۲۱) تُمن (تمہارا)سبب بنیاں کے میانے دئے ہیں تُمن تئیں آج راج (کلیات محمد قلی قطب شاہ ص ۲۴) تجے (تجھے) نئیں تو یہ بچھّو تجے ہور سانپ جم (پنچھی باجا ص ۲۱۰) تِرا (تیرا) لوچن تِرے شیو ہائے مستی (کلیات قلی قطب شاہ ص ۱۸۸) تُمیں (تم) ہم تم منے یک قول تھا او قول نا بِسرو تُمیں (کلیات قلی قطب شاہ ص ۱۸۷) ضمیر غائب حالت واحد جمع فاعلی حالت وہ، وو، وُ، اوُ، اُنے ان، انو، وے مفعولی حالت اس، اس کوں، اسے، بیس کو انوں کوں، اینوں کوں اضافی حالت اس کا انو کا، اینوکا،وِن کا مندرجہ بالا ضمائر غائب کی مثالیں درج ذیل ہیں۔ انو (وہ) غیب کے پردے انو کیوں کھولتے۔ (سب رس) وہ (وہ) عطارہ کے نزدیک وہ نار گئی (قطب مشطری ص ۷۲) اُس (اُس) کہ اس مئے تھے دیسے مُنج کوں سدا سب راز پنہائی(کلیات محمد قلی قطب شاہ ص ۲۰۴) اُن (اُن) جو کُئی اُن کی محبت سوں غلام اُن کا کَوَایا ہے(کلیات محمد قلی قطب شاہ ص ۱۹) اُو(اُس) اُو سے ہم دین و دنیا میں کیا ہے مرتضاؐ رافع (کلیات محمد قلی قطب شاہ ص ۱۹) بیس کو (اُس کو) مو نین میانے بیس کے بھی کے نہ آوتے (کلیات محمد قلی قطب شاہ ) ضمیر موصولہ حالت واحد جمع فاعلی حالت جو، جے ، جن نے، جنے جن، جنو، جنوں مفعولی حالت جسے، جس کوں جنوں کوں، جنو کوں اضافی حالت جس کا جنوں کا مندرجہ بالا ضمائر موصولہ کی مثالیں درج ذیل ہیں۔ جے (جو) کہ جے بولنا ہوئے نہ بول دو (کدم رائو پدم رائو، شعر ۸۶) جنے (جو) جنے سینا اُسے گھائل ہونا ہے (سب رس) جِنو (جو ؍جمع) اس کے فرمائے پر جنو چلے (سب رس ص ۱۶) ضمیراستفہام حالت واحد جمع فاعلی حالت کون، کِن، کِنے، کو کِن مفعولی حالت کس، کس کوں، کسے، کس نے کنے کوں اضافی حالت کس کا کن کا مندرجہ بالا ضمائراستفہامیہ کی مثالیں درج ذیل ہیں۔ کِن(کون؍کس) نجانوں لے قلم کِن خوش نویس آج (کلیات غواصی) کِنے(کس نے) کنے بے رحم باندیا تج پلو آگ (پھول بن) کوٗ(کوں) یاقوت ہور امرجاں میں کوٗ ہے رتن برتر کہو ضمیر اشارہ قریب (۱) یو (یہ) لھوے تے یو تخت و تاج آیا (سب رس) (۲) اِے (یہ) گیا آواز سوآسمان میں اِے (پھول بن ص ۱۳۴) (۳) اِیہہ (یہ) ہرا کر ذِکَر اِیہہ کدم رائے آئے (کدم رائو پدم رائو شعر ۱۰۸) (۴) یے (یہ جمع) یہ رقیباں دیکھ کر دکھ تھے کئے آپ جیو پر خست (۵) ان (اس) اِن آبِ حیات نے اُس آب حیات کا رکھیا لاج (سب رس) (۶) اِنے (اس نے) انے پکڑیا تھا خاموشی (سب رس) (۷) اِنوں (ان کو) اِنوں کو کاں کا آرا م (سب رس) ضمیر اشار ہ بعید (۱) (وو) (وہ) وہ ہمیشہ کھڑا (سب رس) (۲) اُنن کے (اُن کے) (۳) اُنوں کو (اُن کو) ضمیر تنکیر فاعلی حالت : کوئی، کُئی، کُچ، کوچ، جیکو، جیکوئی مفعولی حالت : کس کوں، کن کوں اضافی حالت : کسی کا، کسی کے امثال : (۱) کُئی (کوئی) جو کُئی ہے باغباں اس پھول بن کا (پھول بن) (۲) کُچ (کچھ) نہ آوے گنج قاروں کام کُچ تج حسن کا گنج ہے (کلیات محمد قلی قطب شاہ) (۳) جیکو(جو کوئی) جیکو چڑھے گھوڑے اُپر اس کوں سواراں میں گنن(کلیات محمد قلی قطب شاہ) (۶) فعل (۱) دکنی میں فعل بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے۔ (الف) علامت مصدر (ناں) کے ساتھ۔ بولناں (بولنا) سو بولیا تجھے جو نہ تھا بولناں (کدم رائو پدم رائو شعر ۵۰۷) کھولناں(کھولنا) (ب) برج کی طرح علامت مصدر (ن) سے مرکب افعال بھی ملتے ہیں۔نو سر ہار میں ان کی کثرت ہے۔ ڈھوڈن (ڈھونڈھنے) ڈھونڈن لاگے کدھر ٹھار (نوسر ہار شعر ۵۶۷) رہن (رہنے) رہن لاگے خوشی سات ( نوسر ہار شعر ۵۹۰) اِوٹن (اوٹنے) اِوٹن لاگا کس کس دھات (نو سر ہار شعر ۶۱۲) (ج) مصدر (و) کے اضافہ سے فعل بنائے جاتے ہیں۔ پڑھاون (پڑھانا) (کدم رائو پدم رائو) جاونا (جانا) نہیں ہے حاجت اے جاونے کو تا بہ حجاز (کلیات محمد قلی قطب شاہ) آئونا (آنا) پیونا (پینا) (۲) فعل ناقص : دکنی میں فعل ناقص اور ان کی مثالیں درجِ ذیل ہیں۔ فعل ناقص ۔ ہے، اہے، ہیں، اہیں، تھا، اتھا، تھی، اتھی، تھے، اتھے، تھیاں، اتھیاں اہے (ہے) جہاں جکچہ ہے وہاں سب اہے ظہور اس کا (سب رس) اہیں (ہیں) جکوئی تج محبت کے ماتے اہیں اتھا (تھا) اتھا دل صاف تس کا جوں کہ درپن (پھول بن) اتھی (تھی) نہ بیٹا اسے ایک بیٹی اتھی (چندر بدن و مہیار) اتھے (تھے) گھڑی یک یکس نہ رہتے اتھے تھیاں (تھیں) جو باتاں خدا کوں بھاتیاں تھیاں (سب رس) اتھیاں (تھیں) اتھیاں خوبصورت چھبیلیاں جتیاں (چندر بدن و مہیار) (۳) فعل ماضی (مطلق) : مندرجہ ذیل ہیں۔ (الف) دکنی اردو میں ماضی مطلق کے لئے علامت مصدر (نا) گرا کر زیادہ تر (یا) لگا دیا جاتا ہے۔ اٹھیا (اٹھا) گیا راجہ تج جب اٹھیا بول یہ (کدم رائو پدم رائو) کریا (کیا) لشکر کی گنتی ہمت کریا (سب رس) دیکھیا (دیکھا) لشکر اپنا سب دیکھیا (سب رس) (ب) کبھی کبھی دکنی میں بھی (ا) کا ماضی مطلق مل جاتا ہے جیسے۔ دیکھا قامت جو نظر کو رقیب کے سنگات دیکھا (سب رس) چھپا چھپا سیمرغ جا کوہ قاف میانے (پھول بن ص ۶۸) (ج) بعض اوقات علامتِ مصدر گرانے کے بعد اگر خاتمے پر مصوتّہ رہ جائے تو (ء،ی،ا) کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ آئیا مبارک باد دینے آئیا نو روز تج دوبار (کلیات محمد قلی قطب شاہـ) (د) فعل( کیتا) کا استعمال دکنی میںبہت عام ہے ۔ فعل کی یہ شکل ماضی مطلق اور حال مطلق دونوں کے لئے استعمال کی جاتی رہی ہے۔ کیتا (کیا) سو کیتا ابتدا تعظیم کا سَطڑ (پھول بن) کیتا (کرتا ہے ) معطر اس سوں کیتا ہے چمن کوں (پھول بن) (۴) فعل ماضی (احتمالی) دکنی میں ماضی احتمالی کے لئے ماضی مطلق کے بعد ’’اچھے گا‘‘ یا ’’ اچھے گی‘‘ کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ اچھے گا تاراں کی زنجیراں سوں جکڑ کر جان گیا اچھے گا (سب رس) (۵) فعل حال : جدیداردو کی طرح دکنی میں بھی مصدر سے علامت (نا) حزف کرکے (تا) کا اضافہ کر کے فعل حال بنا یا جاتا ہے لیکن کہیں کہیں (ت) کے اضافہ سے بھی فعل حال بنایا گیا ملتا ہے۔ پلات ادھر تیرے کوثر کا پیالہ پلات (کلیات محمد قلی قطب شاہ) دکنی اردو میں (شمالی ہند کی قدیم اردو کی طرح) حال مطلق بنانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ مضارع کے بعد (ہے) یا (ہیں) بڑھا دیا جاتا ہے۔ پھُل بھاگ سب پھلے ہیں ، دُندے سوں دیکھ جلے ہیں(کلیات محمد قلی قطب شاہ) دکنی اردو میں حال مطلق کے لئے صرف مضارع کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ کرتے مزدوری اپنے بغل میں سو رکھ کتاب (کلیات محمد قلی قطب شاہ) ہوتا سب کے خدا کا بھاتا (سب رس) (۶) فعل مستقبل اردو کی طرح مضارع کے بعد(گا، گی، گے) کے اضافہ سے فعل مستقبل بنایا جاتا ہے مگر جمع کے لئے (گیاں ) کا استعمال کیا جاتا ہے جو دکنی کی اپنی خاصیت ہے۔ گیاں (گی کی جمع) ترے جب کی اِت سوز دھر آئیں گیاں دکنی اردو میں مستقبل مطلق کے لئے (سَ) کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔اس کی مختلف شکلیں درج ذیل ہیں۔ تعداد متکلم حاضر غائب واحد جاسوں جاسے، جاسی جاسے، جاسی جمع جاساں جاسوں جاسی جا سوں (جائوں گا) کہ ہرگز نہ جاسوں تیرے کہنے منے (قطب مشطری) کہہ سے (کہے گا) جے تو ںکہہ سے رھیا نا کُج (ارشاد نامہ) آسی (آئیگی) سبھی دوـ،راں نہ آسی اجی تج سم (کلیات محمد قلی قطب شاہ) ہوسی (ہوگی) اس کے دیوے کو ںکیوں نہ ہوسی روشنی (سب رس) یہ علامتیں فعل مستقبل کے ساتھ ’’سکنا‘‘ فعلِ امدادی کا مفہوم بھی دیتی ہیں۔ نہ ہوسی کدھیں پانچ انگل سمان (کدم رائو پدم رائو) تج سار کہیں جگ میں پریزاد نہ ہو سے (کلیات غواصی) سبھی حوراں نہ آسیں آج تج سم (کلیات محمد قلی قطب شاہ) اس کتاب کوں سینے پر تے ہلاسی نہ ،اس کتاب بغیر کوئی اپنا وقت بھلاسی نا (سب رس) سخی پر کسی کی بد دعا چلسی نا (سب رس) (۶) مضارع : دکنی اردو میں مضارع کی درجِ ذیل شکلیں ملتی ہیں۔ چلے، پاوے، پیوے، سووے، دیوے وغیرہ (سب رس) (۷) فعل معطوف : وہ فعل جس کو دوسرے فعل کے ساتھ ’ کے، کر، کو، یا کوں لگاتے ہیں۔ کے جل کے راک ہونا (کلیات غواصی) کر؍ کرکر نظر قامت سوں وداع ہو کر، تسلیم کرکر (سب رس) کوں وو حاجب جا کوں بولیاں شہ سوں اپنے (پھول بن) (۸) متعلق فعل : دکنی اردو میں رائج متعلق فعل کی قسمیں درجِ ذیل ہیں۔ (الف) متعلق فعل کیفیت و حالت ٹُک (ابھی) جو باتاں میں وہ نار ٹُک آئے گی (قطب مشطری) دھات (طرح) ہوئے جس دھات سوں وہ غم تے آزاد (پھول بن) نپٹ (بالکل) نپٹ گرچہ خدمت میں ہو بے سمجھ جھُٹ مُٹ(جھوٹ موٹ) خبر چلنے کی سن جھُٹ مُٹ ہوا ہے تھوڑا تھوڑا راجی (دیوان ہاشمی) سچیں مچیں(سچ مُچ) سچیں مچیں یو فرشتہ ہے (سب رس) ہلوٗ (ہولے) ہلوٗ اس سنگ دل کوں نرم کر توں (پھول بن) (ب) متعلق فعل زماں (۱) اب، اِتا ، اتال، اتیال، آجنوں (۲) جب، جداں، جدھاں، جَو (۳) تب، تدھاں، تَو (۴) اوّل، پچھے، پچھیں، پیچھیں (۵) تُرت، بیگی، بیگ (۶) جَم ، ہمیشہ، سدا (۷) آج ، کل، پرسوں (۸) کدھیں، کد کچھ مثالیں درجِ ذیل ہیں۔ اتا (اب) اتا میں چپ رہنی کی نیں مرا ٹک ہاتھ چھوڑو خوں(دیوان ہاشمی) اتال (اب) اتال تاب نئیں مُنج انتظار کوں جی (کلیات غواصی) جدھاں(جب ) جدھاں لگ مہروچرخِ اختری ہے (پھول بن) جَو(جب(تک) جَو لگ جنوب و مشرق و مغرب ہے ہور شمال (کلیات غواصی) آجنوں (اب تک)انو آجنوں بی جیتیاں ہیں (سب رس) تدھاں (تب سے) تدھاں تے مئے کی سوگند کھا، تجا ہوں گھر کلالاں کا(دیوان ہاشمی) پچھیں (بعد) کنک دن کے پچھیں امید کا سور (پھول بن) تُرت (فوراً) ہو عارف تُرت کر لے حاصل اس مطلب کوں (کلیات غواصی) بیگ (جلدی) وہیں بیگ خالا نے چھاتی لگا جم (ہمیشہ) جم گڑگڑاواں مست ہو پتی مدن کی ڈھال دے(کلیات غواصی) پرسوں (پرسوں) صبا پرسوں لگوں چنچل تمہارے ہات آتی ہے (دیوان ہاشم) کدھیں (کبھی) کدھیں بے خبر ہوئے کدھیں ہوئے ہوشیار (قطب مشطری) (ج) متعلق فعل مکاں (۱) یہاں، یاں، وہاں، واں (۲) جہاں، جاں، کہاں، کاں (۳) اِدھر، اودھر، وودھر، کدھر (۴) اگے، آنگے، انگے، انگیں، آگل، اگل (۵) بھیتر، بھِتر، بھِترال، باہر، بھار (۶) اوبر، اُپر، اُپرال، آپار (۷) تلے، تلیں، تلار، تلھار (۸) نزدیک، نزک، پیلار، ایلار مثالیں درج ذیل ہیں۔ جاں؍واں(جہاں؍وہاں) جاں رہے کھڑے واں قبول پڑے (سب رس) وودھر (اُدھر) گھڑی کوں دل گھڑی کوں جیو لیو دونوںکھینچے وودھر آگل (آگے) جس کے آگل کسی کوں منصب نیں (کدم رائوپدم رائو) بھار (باہر) اسے نہ بھیتر قرار نہ بھار (سب رس) بھترال (اندر) بھترال کر زر کا پلو کی چپ کٹاریاں کھاڑتی (دیوان ہاشم) اُپرال (اوپر) جو بیٹھا تخت کے اُپرال آکر (پھول بن) تلار (تلے، نیچے)رات اندھیاری چھپی جاکے زمیں کے تلار(کلیات غواصی) نزیک (نزدیک) پیلاڑ (پرے) یو عقل نے پیلاڑ ہے آدمی سمجھتا کیوں (سب رس) ایلاڑ (ادھر) چوڑی ایلاڑ ہے (سب رس) (د) متعلق فعل استفہام : دکنی اردو میں متعلق فعل کے لئے مستعمل الفاظ درج ذیل ہیں۔ کیوں، کی، کے، کیا، کا ہے، کاہے کوں، کائیکوں، کس دھات، کیوں کر کچھ مثالیں درج ذیل ہیں۔ کی(کیوں) آنگن میں کی کھڑے ہیں جیوں شمع پر پتنگ ہو (دیوان ہاشمی) کَے(کیوں) مو نین میانے بیس کے بھی کَے نہ آوتے (کلیات محمد قلی قطب شاہ) کائیکوں (کس لئے) ہمیشہ کائیکوں اٹتی ہے یوں خاک (پھول بن) (ہ) متعلق فعل سبب و علّت: متعلق فعل سبب و علت مندرجہ ذیل ہیں۔ جس دھات، اس دھات، اس بدل، کیا واسطہ کہ اس بدل (اس وجہ سے)اس بدل کہتے ہیںکہ پیر کی بندگی کرو (میراں جی خدا نما) کیا واسطے کہ(اس لئے کہ) ان دونوں کوں شہر دیدار کے نزدیک لیانا کیا واسطے کہ لشکر ہور حشم آتا ہے (سب رس) (و) متعلق فعل مقدار : دکنی متعلق فعل مقدار درج ذیل ہیں۔ ایتا، یتا، وِتا، جِتا، جیتا، بھوت مثالیں درج ذیل ہیں۔ بھوت (بہت) تمہارے ملنے کی دل میں کلولی بھوت آتی ہے (دیوان ہاشمی) (ز) متعلق فعل ایجاب و انکار : درج ذیل ہیں۔ ہاں، ہو، نا ہَو (ہاں) ہَو تو بی کتا ہے سو اس میں ایک مانا ہے (سب رس) (ح) مرکب متعلق فعل : دو کلمے ایک ساتھ کسی فعل کی وضاحت کے لئے استعمال کئے جائیں تو مرکب متعلق فعل کہلاتے ہیں۔ دکنی اردو میں مستعمل مرکب متعلق فعل درج ذیل ہیں۔ (۱) کیئں کا کیئں، کاں کاں ، آس پاسے (۲) جاں لگوں، اجھوں لگ، جوَ لگ، تَو لگ، جدھاں لگ، تدھاں لگ (۳) جُلگ، تُلگ، جَو لگن، تو لگن، کَو تلک، تَو تلک مثالیں درج ذیل ہیں۔ آس پاسے (آس پاس) کہ جیوں چاند کے آس پاسے نجوم جاں لگوں (جہاں تک) ساتی گئے ہیں جاں لگوں دھاں لگ تو جانا ہوئیگا(دیوان ہاشمی) جُلگ؍تُلگ (جب تک؍ تب تک) جُلگ دور عالم کا باقی اچھے۔تُلگ یاد یو بزمِ ساقی اچھے جو لگن؍تو لگن(جب تک؍ تب تک) جو لگن دینا تو لگن اسے حیات (سب رس) کو تلک (کب تک)اچھوں میں کو تلک روتی بلکتی (پھول بن) (۹) الفاظ کی تکرار : الفاظ کی تکرار کے درج ذیل طریقے دکنی اردو میں ملتے ہیں۔ (الف) الفاظ کے درمیان میں ’’ے‘‘ کا اضافہ۔ رگے رگ، گھرے گھر، جنگلے جنگل، بنے بن، راتے رات، ہاتے ہات (ب) ’’ں‘‘ کے اضافہ کے ذریعہ۔ ٹھاریں ٹھار، بالیں بال، ٹھاویں ٹھاوں (ج) ’’الف‘‘ کا اضافہ کرکے۔ رنگا رنگے (۷) حرف (الف) حروف ربط علامتِ اضافت : دکنی اردو میں مستعمل علاماتِ اضافت مندرجہ ذیل ہیں۔ کا، کی، کے، کیرا، کیری، کیرے، کیاں(جمع مونث) مثالیں درج ذیل ہیں۔ کیرا (کا) آنکیں کیرا کاجل پونچھ (نو سر ہار شعر ۱۱۴۱) کیرے (کے) کیری (کی) کیاں (کی) پیاریاں شاہ کیاں مل عید کا سنّگار کیتا ہیں(کلیات محمد قلی قطب شاہ) علامتِ فاعل : دکنی میں ’’نے‘‘ علامت فاعل ہے مگر اس کے استعمال کے کچھ قاعدے ہیں مثلاً ۔ عام طور پر یہ ماضی مطلق، ماضی بعیدو قریب، اور فعل لازم و متعدی کے ساتھ استعمال کی گئی ہے۔اس کی مثالیں درج ذیل ہیں۔ (۱) ماضی مطلق کے ساتھ ’’نے‘‘ کا استعمال وہی بولیا جو خدا نے فرمایا (سب رس) (۲) ماضی قریب کے ساتھ ’ ’ نے‘‘ کا استعمال خدا کے دوستاں نے بولے ہیں (سب رس) (۳) ماضی بعید کے ساتھ ’’نے‘‘ کا استعمال ہمت نے مکتوب لکھا تھا (سب رس) (۴) دکنی اردو میں ’’نے‘‘ فعلِ متعدی اور فعلِ لازم دونوں کے ساتھ استعمال ہوتی ہے۔ فعلِ متعدی : کیا صبح نے جھل سوں دامن کوں چاک فعلِ لازم : رقیب نے روسیاہ نے بے نصیب نے بولیا (سب رس) (۵) دکنی میں ’’نے‘‘ کا استعمال فعل جنس اور تعدادی فاعل کے تابع ہوتا ہے۔ جنس : زہرہ نے جلوہ گائی (سب رس) تعداد : نازاں نے گھونگھٹ کھولے (سب رس) (۶) دکنی اردو میں ماضی مطلق ، ماضی قریب اور ماضی بعید کے ساتھ ــ’’نے‘‘ کا استعمال ضروری نہیںہے۔ اکثر اس کے بنا بھی کام چلا لیا جاتا ہے۔ ماضی مطلق : راجنا کل جو خواب دیکھی میں (کلیات غواصی) ماضی قریب : سکھی توں کجلٹا پن سب سٹی ہے ماضی بعید : وو ایسے وقت شہ مجلس کیا تھا (پھول بن) علامت مفعول : دکنی کی علامات مفعول درج ذیل ہیں۔ کو، کوں، تئیں علامت مفعول کے استعمال کے قاعدے مندرجہ ذیل ہیں۔ (۱) ذی عقل اور جاندار کے لئے ’کوں ‘ یا ’تئیں‘ کا استعمال کیا جاتا ہے مثلاً۔ دل کوں صاف کرو، بہت نکو لاف کرو (سب رس) خدا تئیں جا کہہ توں تو بھی کہ اس عالم کی جیوتی کوں (کلیات غواصی) (۲) مفعول بے جان ہو تو بھی دکنی میں یہ علامت مفعول استعمال کی جاتی ہیں جبکہ اردو میں ایسی حالت میں علامت مفعول استعمال نہیں ہوتی مثلاً۔ وہاں تے آیتہ الکرسی کوں پڑ کر (پھول بن) چھپی سو بات کوں اس سوں اٹھی بول (پھول بن) (۳) بعض اوقات علامت مفعول حذف بھی ہو جاتی ہے۔ خدا اپ صنع تے دیتا ہے تم ناز (کلیات محمد قلی قطب شاہ) (۴) دکنی میں ’’نے‘‘ بھی علامت مفعول کے طور پر استعمال ہوتا ہے مثلاً نفر ہزار ہزار ہو تو بی صاحب نے اپنا داب رکھتا (سب رس) (ب) حروف جار دکنی میں مستعمل حروف جار مندرجہ ذیل ہیں۔ (۱) میں، منے، منیں، بھِتر (۲) سے، سوں، سو، ستی، سیتی، سیتیں، سینتھیں، تھیں، تیں، ستے، سیتھے،تھے، تے (۳) تلگ، لگ، لگوں، لگن (۴) پر، اُپر، اُوپر، اُپرال، پو، پہ (۵) کدن، کدھن، سنگات (۶) تائیں، کنے مثالیں درج ذیل ہیں۔ منے توں جامع فضائل منے سب ہوا منیں پکڑ غصے ستی دانتاں منیں لب (پھول بن) بھتر سوں ستی الٰہی غیب کے پردے ستی توں (پھول بن) سیتی گل مصطفی سیتی سیرا گندھا کر (کلیات محمد قلی قطب شاہ) تھیں ہمارا درد تمن دوری تھیں ہے گاڑا سخت (کلیات محمد قلی قطب شاہ) تیں زمین تیں نیشکر جب بھار آیا (پھول بن) سیتھے ہوا پرگٹ جدھاں سیتھے دنیا ہور دین قدرت سوں(کلیات محمد قلی قطب شاہ) تھے، لگ ، تلگ ، لگوں اُپرال جو بیٹھا تخت کے اُپرال آکر (پھول بن) پو موں پو مسجد دل میں بت خانہ (سب رس) تائیں تیرے تائیں ہوئی ہے یو بدنام یاں (قطب مشطری) (ج) حروف عطف اور، ہور ، و، کیا ہور دین اور دنیا اُنن اسلام تھے پایا رواج (کلیات محمد قلی قطب شاہ) و خدا میں و اس کی قدرت میں (کلمتہ الحقائق ص ۲۶) کیا کیا عورت کیا مرد جس میں ہے کچھ عشق کا درد (سب رس) (د) حروف استدراک : ونے، پن، امّا، مگر، اگرچہ، بلکہ، پَن پن بات جدا پن بھید وہیج (سب رس) (ہ) حروف استشناء : بِن، بِنا، باج، بغیر، بغر، بجز بِنا (بغیر) قلیہ برنجی خاگینہ کیوں کھائوں میں ساقی بِنا (دیوان ہاشمی) باج (بغیر) پیا باج پیالہ پیا جائے نہ (کلیات محمد قلی قطب شاہ) (و) حروف تخصیص : ہر، بی، بھی، تو، ہی، چ تو تو نہ کہے تو کون کہے عندلیب (کلیات غواصی) چ (تاکیدی یا تخصیصی) نہ بھاوے مجھے وہ جو میراچ باپ (کدم رائوپدم رائو شعر ۵۵۴) (ز) حروف تشبیہ اور مثال ناد، سار، نمن، نمنے، مانند، جانو ناد فلک کے ناد کس جاگے پہ نا ٹھار (پھول بن) نمن کیا دکھ سو دندیاں نمن جگ تے بھار نمنے رگے رگ وہ خوش روح نمنے سرس
زبان ایک لسانی نظام ہے جس کے ذریعہ انسان، مختلف آوازوں اور اشاروں کی مدد سے اپنے جذبات ، خیالات اور احساسات کا اظہار کرتا ہے اور ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرتا ہے ۔ان آوازوں کو لسانی آوازیں کہتے ہیں۔ یہ آوازیں وہ ہوتی ہیں جو الفاظ کی ادائیگی میں معاون ہوتی ہیں۔ انسان کے منھ سے نکلی ہوئی تمام آوازیں لسانی آوازوں میں شمار نہیں کی جاسکتیں مثلاً چھینک کی آواز یا کھانسی کی آواز۔ زبان کے مدرس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ زبان کے اس لسانی نظام سے واقفیت رکھتا ہوکیونکہ کسی بھی زبان کی آوازوں کی ادئیگی کو بہ خوبی سمجھنے کے لئے اس زبان کے صوتی نظام کو سمجھنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اس کے لئےمدرس کی علم لسانیات سے واقفیت بہت ضروری ہے۔
زبان کی ابتدا، ارتقا ، ساخت اور ماہیت کے متعلق غور و فکر کا سلسلہ ابتدائی زمانے سے چلا آرہا ہے۔جہاں مذہبی مفکروں نے یہ ثابت کیا ہے کہ زبان دراصل خدا کی تخلیق ہے جیسا کہ قرآن کریم میں بھی مذکور ہے کہ اللہ نے آدم ؑ کو تمام اسماء تعلیم فرما دئےوہیں شانہ بہ شانہ اہل علم حضرات نے بھی اس سلسلہ میں اپنی تحقیقات کی بنیاد پر بہت سی آرا قائم کیں۔ افلاطون اور ارسطو نے بھی زبان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔افلاطون کی کتاب علمِ زبان کے تعلق سے پہلی کتاب تصور کی جاتی ہے۔واحد جمع‘تذکیروتانیث اور اجزائے کلام کی ابتدائی تعریفیں یونانی دانشور ارسطو سے منسوب ہیں۔ ابجدی تحریر کاآغاز بھی یونان سے ہی ہوا۔قدیم ہندوستانیوں اور عربوں نے زبان کے بارے میں کافی غوروخوض کیا۔اس سلسلے میں پاننی کی (اشٹا دھیائی) خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔
انیسویں صدی میں جرمنی میں زبانوں کے مطالعےکے لئے ایک اہم شعبہ قائم کیا گیا۔یہ شعبہ زبانوں کے خاندانی رشتوں کی کھوج میںجٹ گیالیکن ان ماہرین زبان کا طریقہ کار محض تاریخی اورکلاسیکی زبانوں تک محدود رہا اورزندہ زبانیں ان کے مطالعے کی توجہ کا مرکز نہ بن سکیں۔زبان کے مطالعے کی سائنسی بنیادیں بیسویں صدی کے آغاز میں سویئزرلینڈ کے ) کی کتاب کے منظرِ عام پرآنے کے بعد شروع ہوئیں۔ساسور نے پہلی بار زبان کے تقریری روپ کی جانب اہلِ علم کی توجہ مبذول کی۔دیکھتے ہی دیکھتے ماہرین لسانیات کی ایک صحت مند تحریک نے جنم لیا اور اس طرح سے جدید لسانیات کے شعبے کا قیام عمل میں آیا۔
لسانیات، زبان کے سائنسی مطالعے کا نام ہے۔ تعلیمی نظام میں لسانیات کی سب سے بڑی دین یہ ہے کہ ا س نے زبان کی ماہیئت کے شعور کو عام کیاہے یعنی یہ بتانے کی کوشش کی ہے کی زبان کیا ہے۔زبان کواسطور کی دنیا سے نکال کر معروضیت کی روشنی میں پیش کیا۔لسانیات میں زبان کے مطالعے کے دو طریقہ کار وضع ہیں
تاریخی لسانیات توضیحی لسانیات
تاریخی لسانیات : تاریخی لسانیات میں زبانوں کی تاریخ کا تفصیلی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے ان کی عہد بہ عہد تبدیلیوں کا کھوج لگایاجاتا ہے۔یہاں ان اصولوں اور قواعد کا مطالعہ کیا جاتا ہے جن کے سبب زبانوں میں مختلف قسم کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں یہ تبدیلیاں تلفظ کے اعتبار سے بھی ہوسکتی ہے معنی کے اعتبار سے بھی ہوسکتی ہیں۔
توضیحی لسانیات: توضیحی لسانیات میں زبان کی توضیح اس کی درج ذیل سطحوں پر کی جاتی ہے
صوتیات فونیمات یا تجزصوتیات صرفیا ت یا مارفیمیات نحویات معنیات
صوتیات : اسے لسانیات کی کلید بھی کہا جاتا ہے۔زبان آوازوں کے علامتی اور تصوراتی نظام کا نام ہے۔ انسانی دہن مختلف قسم کی آوازوں کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے۔ایک آواز دوسری آوازوں سے مل کر زبانوں کو جنم دیتی ہیں۔صوتیات لسانیات کا وہ علمی شعبہء ہے جس میں انسانی اعضائے تکلم سے پیدا ہونے والی ان آوزوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے جو مختلف زبانوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس مطالعے میں آوازوں کی تشکیل، ادائیگی، ترسیل، نیز آوازوں کی ان کے مخارج اور دیگر اعتبار سے درجہ بندی کی جاتی ہے۔
فونیمات یا تجز صوتیات : لسانیات کی یہ شاخ، کسی زبان میں کام آنے والی اہم اور تفاعلی آواز کا مطالعہ کرتی ہے۔ایک زبان میں استعمال ہونے والی آوازوں کی تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے لیکن فونیمات کی تعداد محدود اور مقرر ہوتی ہیں۔ اردو میں فونیمات کی صحیح تعداد کے بارےمیں بھی علمائے لسانیات کے مابین ذرا سا اختلاف رائے پا یا جاتا ہے۔کوئی ان کی تعداد (۵۸) کوئی(۴۸) اور کوئی(۴۴) قرار دیتا ہے۔
صرفیات : صرفیات کو اردو میں مارفیمیات بھی کہتے ہیں۔ یہاں الفاظ کی ساخت، اس کے اصول و قواعد اور اس کے استعمال سے بحث ہوتی ہے۔زبان کی چھوٹی سے چھوٹی بامعنی اکائیوں جیسے الفاظ کی تذکیرو تانیث، ان کی تعداد، حالات و کیفیات، زمانہ اور اضداد وغیرہ کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔
نحویات : نحویات، کسی زبان میں الفاظ کی مخصوص اور با معنی ترتیب کو کہتے ہیں۔ زبان میں جملوں کی ساخت اور جملوں میں لفظوں کی ترتیب کے قاعدوں کا مطالعہ نحویات کے ذیل میں آتا ہے۔مثلاً( احمد نے کھانا کھایا)۔ یہ اردو نحو کے اعتبار سے الفاظ کی صحیح ترتیب ہے۔اگر اس کے بدلے یوں کہا جائے کہ( کھانا کھایا احمد نے)تو اس کے معنی کی ترسیل پیچیدگی کا باعث بنے گی۔صرف و نحو کو ملاکر زبان کی قواعد کہا جاتا ہے۔
معنیات : لفظوں اور جملوں کے مطالب اور معانی کا مطالعہ معنیات کہلاتا ہے۔ان مطالب کا زبانوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔لفظ اور معنی کے درمیان کیا رشتہ ہے۔یہ رشتہ منطقی ہے یا علامتی۔ان سب حقائق کا پتہ علم ِ معنیات سے لگایا جاتا ہے۔
آگے کے صفہات میں ہم توضیحی لسانیات کے اجزا کا تفصیلی جائزہ پیش کریں گے۔
لسانی آوازوں کے مطالعہ کو صوتیات کہتے ہیں ۔
یہ لسانی آوازیں کسی بھی زبان سے متعلق ہو سکتی ہیں۔ یعنی علم صوتیات کا تعلق دنیا کی تمام زبانوں سے ہے ۔ علم صوتیات کی ہی طرح ایک اصطلاح اور لسانی مطالعہ میں مستعمل ہے یعنی علم اصوات ۔ علم اصوات میں کسی مخصوص زبان کے صوتی نظام کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
صوتیات کا تعلق کسی بھی زبان کی تقریری شکل سے ہوتا ہے نہ کہ تحریری شکل سے۔ زبان کے تقریری شکل یعنی اس کے آواز کی شکل میں نمودار ہونے کے تین مراحل ہیں جن کی بنیاد پر صوتیات کو تین شاخوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔
تلفظی صوتیات : پہلے مرحلے میں دماغ میں کسی خیال کی پیدائش ہوتی ہے جسے اظہار کے قابل بنانے کے لئے نظام اعصاب اسے اعضائے تکلم تک پہونچاتا ہےاور اعضائے تکلم میں ارتعاش کی وجہ سے مختلف اصوات پیدا ہوتی ہیں۔تلفظی صوتیا ت میں ہم اس بات کا مطالعہ کرتے ہیں کہ تکلمی صوت کی ادائیگی میں اعضائے تکلم کس طرح کام کرتے ہیںاور ان کی تحریک سے کس طرح کی آوازیں پیدا ہوتی ہیں۔ آگے کے صفہات میں ہم توضیحی لسانیات کے اجزا کا تفصیلی جائزہ پیش کریں گے۔
سمعی صوتیات : دوسرے مرحلے میں یہی اصوات ہوائوں کےہوا کے ذریعہ سننے والے کے کانوں تک پہونچتی ہیں اور کانوں میں لگی جھلّی میں ارتعاش پیدا کرتی ہیں جس کے ذریعہ سےصوتی پیغام کی دماغ تک رسائی ہوتی ہے۔ متکلم اور سامع کے درمیان کے فاصلے کو ہوا کی مدد سے پورا کرنے کے اس عمل کے مطالعہ کو سمعی صوتیات کہتے ہیں۔ آگے کے صفہات میں ہم توضیحی لسانیات کے اجزا کا تفصیلی جائزہ پیش کریں گے۔
سمعیاتی صوتیات : آوازیں متکلم کے منھ سے نکل کر ہوائوں کے ذریعہ سامع کے کانوں تک پہنچتی ہیں اور دماغ اس کی توضیح کرتا ہے۔ سمعیاتی صوتیات کا تعلق سننے اور آوازوں کے سمجھنے سے ہے ۔ یعنی سمعیاتی صوتیات کی مدد سے یہ سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سنی گئی آوازیں سامع کے ذہن کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔ آگے کے صفہات میں ہم توضیحی لسانیات کے اجزا کا تفصیلی جائزہ پیش کریں گے۔
تلفظی صوتیات : صوتیات کی اس شاخ میں انسانی آوازوں کی ادائیگی کے عمل اور اس میں معاون اعضائے تکلم کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ آوازوں کی پیدائش کے لئے ہوا کی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔ ہوا ہمارے پھیپھڑوں اور حلق سے ہوکر منہ اور ناک سے نکلتی ہے۔ ہوا کے اخراج کے دوران گلے، زبان اور تالو کی مدد سے ہوا کے اخراج میں رکاوٹیں پیدا کرکے مختلف قسم کی آوازیں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ جو اعضا ہوا کے اس نظام میں تغیر پیدا کرکے مختلف قسم کی آوازیں پیدا کرنے میں معاون ہوتے ہیں انہیں اعضائے تکلم کہا جاتا ہے۔ اعضائے تکلم کی فہرست درج ذیل ہے۔
(Lip) ہونٹ
(Upper Teeth) اوپری دندان
(Alveolar Ridge) اوپری مسوڑھا یا لثہ
(Hard Palate) سخت تالو
(Soft Palate Velum) غشا
(Uvula) لہات
(Pharynx) حلقوم
(Epiglottis) حلق پوش
(Trachea) سانس کی نلی
(Larynx) خجرہ
(Vocal Cord) صوت تانت
(Glottis) صوت تانت کا دہانہ
(Nasal Cavity) خلائے انفی
(Lungs) پھیپھڑے
آوازوں کی ادائیگی میں ان اعضائے تکلم کے رول کو سمجھنے کے لئے ان کو دو خانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔یہ تقسیم یا درجہ بندی ان اعضا کی حرکت کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
تلفظ کار جامد تلفظ کار یعنی نقطہ تلفظ ، مقام تلفظ
تلفظ کار : وہ اعضائے تکلم جو حرکی (Mobile) ہیں یعنی حرکت کرتے ہیں،انھیں تلفظ کار کہا جاتا ہے۔ ان کی تعداد دو ہے۔ زبان اور نچلا ہونٹ۔
زبان : اعضائے تکلم میں زبان کی خاص اہمیت ہے۔ زبان بہت متحرک اور لچیلی تلفظ کار ہے۔ زبان کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
زبان کی نوک : زبان کی نوک سب سے زیادہ لچیلی اور تلفظ کار ہوتی ہے۔ جب زبان کی نوک اور اوپری دانت کی مدد سے آوازیں وجود میں آتی ہیں تو ایسی آوازوں کو دنتی آوازیں کہتے ہیںکیونکہ ان کی ادائیگی میں زبان کی نوک دانتوں کے قریب جا کر ہوا میں رکاوٹ ڈالتی ہے جس کی وجہ سے یہ آوزیں وجود میں آتی ہیں ان کی مثالیں مندرجہ ذیل ہیں۔
ت تھ د دھ
جب زبان کی نوک مسوڑھے (لثہ) کے قریب جاکر ہوا میں رکاوٹ پیدا کرتی ہےاور اس کی وجہ سے آوازیں پیدا ہوتی ہے تو ایسی آوازوں کو لثائی آوازیں کہتے ہیں۔اس کی مثالیں مندرجہ ذیل ہیں۔
س ر ن
جب زبان کی نوک تالو تک جاکر ہوا میں رکاوٹ پیدا کرکے آواز پیدا کرتی ہے تو ایسی آوازوں کو معکوسی آوازیں کہتے ہیں۔
ٹ ٹھ ڈ ڈھ
زبان کا پھل : زبان کا پھل کم لچیلا ہوتا ہے ۔ زبان کے پھل اور تالو کی مدد سے ادا ہونے والی آوازوں کو تالئی آوازیں کہتے ہیں۔
چ چھ ج جھ اس کی مثالیں ہیں۔
زبان کا پچھلا حصہ : زبان کا پچھلا حصہ اردو آوازوں کی ادائیگی میں ایک اہم تلفظ کار ہے۔ زبان کا پچھلا حصہ نرم تالو کے قریب جاکر
ک کھ گ گھ کی آوازیں پیدا کرتا ہے ۔ زبان کا پچھلا حصہ کوّا یا لہات کے ساتھ مل کر ’’ق‘‘ کی آواز پیدا کرتا ہے۔ اسی لئے اس آواز کو لہاتی آواز کہتے ہیں۔
نچلا ہونٹ : نچلا ہونٹ دو مقام تلفظ ، اوپری ہونٹ اور اوپری دانت کے قریب جاکر آوازوں کی ادائیگی کا سبب بنتا ہے۔ جب نچلا ہونٹ اوپری ہونٹ کے ساتھ مل کر آوازوں کی ادائیگی کرتا ہے تو ایسی آوازوں کو دو لبی آوازیں کہتے ہیں۔ اس کی مثال درج ذیل ہے۔
پ پھ ب بھ جب نچلا ہونٹ اوہری دانت کے ساتھ مل کر آوازوں کی ادئیگی کا سبب بنتا ہے تو ایسی آوازیں لب دنتی آوازیں کہلاتی ہیں مثلاً
ف اور د
\
جامد تلفظ کار یعنی نقطہ تلفظ ، مقام تلفظ : تلفظ کار اعضا یعنی زبان اور نچلا ہونٹ جب جامد تلفظ کار یعنی ایسے اعضا یا مقامات پر جاکر ہوا میں رکاوٹ ڈالتے ہیں جو کہ متحرک نہیں ہوتے ہیں بلکہ جامد ہوتے ہیں تو آوازیں پیدا ہوتی ہیں۔ جامد تلفظ کار یعنی جامد اعضا کی مدد کے بغیر آوازوں کا پیدا ہونا ناممکن ہے لہٰذا ایسے جامد اعضا کو نقظہ تلفظ یا مقام تلفظ کہتے ہیںجیسے اوپری دانت، اوپری ہونٹ، تالو ، لہات اورصوت تانت وغیرہ ۔ تلفظ کار، نقطہ تلفظ اور ان سے پیدا ہونے والی آوازوں کی وضاحت مندرجہ ذیل ٹیبل کے مطالعہ سے ممکن ہے۔
تلفظ کار + مقام تلفظ - آواز کا نام آوازیں
نچلا ہونٹ + اوپری ہونٹ - دو لبی آوازیں ب
،پنچلا ہونٹ + اوپری دانت - لب دنتی آوازیں ف،د
زبان کی نوک + اوپری ہونٹ - دنتی آوازیں ت،د
زبان کی نوک + اوپری مسوڑھا - لثائی آوازیں ن،س،ر
زبان کی نوک + سخت تالو - معکوسی آوازیں ٹ، ڈ
زبان کا پھل + سخت تالو - تالوئی آوازیں ج،چ
زبان کا پچھلا حصہ + نرم تالو - غشائی آوازیں ک،گ
زبان کا پچھلا حصہ + لہات یا کوّا - لہاتی آوازیں ق
صوت تانت + صوت تانت - حلقی آوایں ہ، ح
نچلا ہونٹ + اوپری ہونٹ - دو لبی آوازیں ب
مصوتے :وہ آوازیں جن کی ادائیگی کے دوران منہ کے اندر کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آتی ہے بلکہ صوت تانت میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ آوازیں وجود میں آتی ہیں یا یوں کہا جائے کہ یہ آوازیںمسموع ہو جاتی ہیں مصوتے کہلاتے ہیں۔ اردو میں ’’ا‘‘، ’’ی‘‘ اور ’’و‘‘ کی آوازیں مصوتوں کی مثال ہے۔
مسموع مصوتے : اردو کے تمام مصوتے مسموع ہیں ۔
مصوتوں کی درجہ بندی :مصوتوں کا تلفظ صوت تانت کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن زبان اور ہونٹوں کی حرکتیں انہیں مختلف شکل دینے میں معاون ہوتی ہیں۔ زبان اور ہونٹوں کی حرکت کی وجہ سے ہی مصوتوں کی متفرق شکلیں (آوازیں) وجود پاتی ہیں۔ اسی لئے مصوتوں کی درجہ بندی چار بنیادوں پر کی گئی ہے۔
الف) زبان کا حصہ
ب) زبان کی اونچائی
ج) ہونٹوں کی گولائی
د) طول
الف) لزبان کے حصے کی بنیا پر درجہ بندی زبان کے حصے کی بنیاد پر مصوتوں کی درجہ بندی زبان کو تین حصوں میں تقسیم کرے کی گئی ہے۔زبان کا اگلا حصہ،زبان کا پچھلا حصہ اور زبان کا درمیانی حصہ۔کسی مصوتے کی مخصوص آواز کے پیچھے زبان کے کس حصہ کا اہم رول ہے اسی بنیاد پر اس مصوتے کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
اگلے مصوتے :جن مصوتوں کی ادائیگی میں زبان کا اگلا حصہ انہیں ایک مخصوص شکل (آواز) دیتا ہےاگلے مصوتے کہلاتے ہیں۔ مثلاً ’’ای‘‘، ’’اے‘‘، ’’او‘‘ ۔
درمیانی مصوتے : وہ مصوتے جن کی ادائیگی میں زبان کا درمیانی حصہ اہم رول ادا کرتا ہے درمیانی مصوتے کہلاتے ہیں ۔ مثال ’’ا‘‘۔
پچھلے مصوتے :جن مصوتوں کی ادائیگی میں زبان کا پچھلا حصہ معاون ہوتا ہے انہیں پچھلے مصوتے کہتے ہیں۔مثال ’آ‘ اور ’اوُ‘۔
(ب) زبان کی اونچائی کی بنیاد پر درجہ بندی :مصوتوں کی ادائیگی کے دوران مصوتوں کی آواز کو ایک مخصوص شکل دینے کے لئے زبان کا کوئی مخصوص حصہ اوپر یا نیچے کی جانب حرکت کرتا ہے جس کی بنیاد پر ان مصوتوں کی درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
بالائی مصوتے :جب مصوتوں کی ادائیگی کے دوران زبان کا کوئی حصہ اوپر کی جانب حرکت کرتا ہے تو ایسے مصوتوں کو بالائی مصوتے کہتے ہیں۔ مثلاً ’ای‘ اور ’او‘ ۔ جب ’ای‘ کا تلفظ کیا جاتا ہے تو زبان کا اگلا حصہ اوپر کی جانب اٹھتا ہے لہٰذا اسے اگلا بالائی مصوتہ کہتے ہیں جبکہ ’او‘ کے تلفظ کے دوران زبان کا پچھلا حصہ اوپر کی جانب اٹھتا ہے اس لئے اسے پچھلا بالائی مصوتہ کہتے ہیں۔
وسطی مصوتے :جب کسی مصوتے کی ادائیگی کے دوران زبان کا کوئی مخصوص حصہ درمیانی سطح پر رہتا ہے تو ایسے مصوتوں کو وسطی مصوتے کہتے ہیں۔مثال ’اے‘ اور ’او ‘۔
نچلے مصوتے :میں زبان کا پچھلا حصہ نیچے کی جانب جھک جاتا ہے۔ وہ مصوتے جن کی ادائیگی میں زبان کا کوئی مخصوص حصہ نیچے کی جانب جھک جاتا ہے تو اسے نچلا مصوتہ کہتے ہیں۔ مثال ’آ‘‘ ارو میں ’آ‘ پچھلا نچلا مصوتہ ہے کیونکہ اس کے تلفظ
سمعی صوتیات
Acoustic phonetic
دوسرے مرحلے میں یہی اصوات ہوائوں کےہوا کے ذریعہ سننے والے کے کانوں تک پہونچتی ہیں اور کانوں میں لگی جھلّی میں ارتعاش پیدا کرتی ہیں جس کے ذریعہ سےصوتی پیغام کی دماغ تک رسائی ہوتی ہے۔ متکلم اور سامع کے درمیان کے فاصلے کو ہوا کی مدد سے پورا کرنے کے اس عمل کے مطالعہ کو سمعی صوتیات کہتے ہیں۔
سمعیاتی صوتیات
Auditory phonetic
آوازیں متکلم کے منھ سے نکل کر ہوائوں کے ذریعہ سامع کے کانوں تک پہنچتی ہیں اور دماغ اس کی توضیح کرتا ہے۔ سمعیاتی صوتیات کا تعلق سننے اور آوازوں کے سمجھنے سے ہے ۔ یعنی سمعیاتی صوتیات کی مدد سے یہ سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سنی گئی آوازیں سامع کے ذہن کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔
ت تھ د دھ
جب زبان کی نوک مسوڑھے (لثہ) کے قریب جاکر ہوا میں رکاوٹ پیدا کرتی ہےاور اس کی وجہ سے آوازیں پیدا ہوتی ہے تو ایسی آوازوں کو لثائی آوازیں کہتے ہیں۔اس کی مثالیں مندرجہ ذیل ہیں۔
س ر ن
جب زبان کی نوک تالو تک جاکر ہوا میں رکاوٹ پیدا کرکے آواز پیدا کرتی ہے تو ایسی آوازوں کو معکوسی آوازیں کہتے ہیں۔
ٹ ٹھ ڈ ڈھ
زبان کا پھل : زبان کا پھل کم لچیلا ہوتا ہے ۔ زبان کے پھل اور تالو کی مدد سے ادا ہونے والی آوازوں کو تالئی آوازیں کہتے ہیں۔
چ چھ ج جھ اس کی مثالیں ہیں۔
زبان کا پچھلا حصہ : زبان کا پچھلا حصہ اردو آوازوں کی ادائیگی میں ایک اہم تلفظ کار ہے۔ زبان کا پچھلا حصہ نرم تالو کے قریب جاکر
ک کھ گ گھ کی آوازیں پیدا کرتا ہے ۔ زبان کا پچھلا حصہ کوّا یا لہات کے ساتھ مل کر ’’ق‘‘ کی آواز پیدا کرتا ہے۔ اسی لئے اس آواز کو لہاتی آواز کہتے ہیں۔
نچلا ہونٹ : نچلا ہونٹ دو مقام تلفظ ، اوپری ہونٹ اور اوپری دانت کے قریب جاکر آوازوں کی ادائیگی کا سبب بنتا ہے۔ جب نچلا ہونٹ اوپری ہونٹ کے ساتھ مل کر آوازوں کی ادائیگی کرتا ہے تو ایسی آوازوں کو دو لبی آوازیں کہتے ہیں۔ اس کی مثال درج ذیل ہے۔
پ پھ ب بھ جب نچلا ہونٹ اوہری دانت کے ساتھ مل کر آوازوں کی ادئیگی کا سبب بنتا ہے تو ایسی آوازیں لب دنتی آوازیں کہلاتی ہیں مثلاً
ف اور د
\
جامد تلفظ کار یعنی نقطہ تلفظ ، مقام تلفظ : تلفظ کار اعضا یعنی زبان اور نچلا ہونٹ جب جامد تلفظ کار یعنی ایسے اعضا یا مقامات پر جاکر ہوا میں رکاوٹ ڈالتے ہیں جو کہ متحرک نہیں ہوتے ہیں بلکہ جامد ہوتے ہیں تو آوازیں پیدا ہوتی ہیں۔ جامد تلفظ کار یعنی جامد اعضا کی مدد کے بغیر آوازوں کا پیدا ہونا ناممکن ہے لہٰذا ایسے جامد اعضا کو نقظہ تلفظ یا مقام تلفظ کہتے ہیںجیسے اوپری دانت، اوپری ہونٹ، تالو ، لہات اورصوت تانت وغیرہ ۔ تلفظ کار، نقطہ تلفظ اور ان سے پیدا ہونے والی آوازوں کی وضاحت مندرجہ ذیل ٹیبل کے مطالعہ سے ممکن ہے۔
تلفظ کار + مقام تلفظ - آواز کا نام آوازیں
نچلا ہونٹ + اوپری ہونٹ - دو لبی آوازیں ب
،پنچلا ہونٹ + اوپری دانت - لب دنتی آوازیں ف،د
زبان کی نوک + اوپری ہونٹ - دنتی آوازیں ت،د
زبان کی نوک + اوپری مسوڑھا - لثائی آوازیں ن،س،ر
زبان کی نوک + سخت تالو - معکوسی آوازیں ٹ، ڈ
زبان کا پھل + سخت تالو - تالوئی آوازیں ج،چ
زبان کا پچھلا حصہ + نرم تالو - غشائی آوازیں ک،گ
زبان کا پچھلا حصہ + لہات یا کوّا - لہاتی آوازیں ق
صوت تانت + صوت تانت - حلقی آوایں ہ، ح
نچلا ہونٹ + اوپری ہونٹ - دو لبی آوازیں ب
مصوتے :وہ آوازیں جن کی ادائیگی کے دوران منہ کے اندر کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آتی ہے بلکہ صوت تانت میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ آوازیں وجود میں آتی ہیں یا یوں کہا جائے کہ یہ آوازیںمسموع ہو جاتی ہیں مصوتے کہلاتے ہیں۔ اردو میں ’’ا‘‘، ’’ی‘‘ اور ’’و‘‘ کی آوازیں مصوتوں کی مثال ہے۔
مسموع مصوتے : اردو کے تمام مصوتے مسموع ہیں ۔
مصوتوں کی درجہ بندی :مصوتوں کا تلفظ صوت تانت کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن زبان اور ہونٹوں کی حرکتیں انہیں مختلف شکل دینے میں معاون ہوتی ہیں۔ زبان اور ہونٹوں کی حرکت کی وجہ سے ہی مصوتوں کی متفرق شکلیں (آوازیں) وجود پاتی ہیں۔ اسی لئے مصوتوں کی درجہ بندی چار بنیادوں پر کی گئی ہے۔
الف) زبان کا حصہ
ب) زبان کی اونچائی
ج) ہونٹوں کی گولائی
د) طول
الف) لزبان کے حصے کی بنیا پر درجہ بندی زبان کے حصے کی بنیاد پر مصوتوں کی درجہ بندی زبان کو تین حصوں میں تقسیم کرے کی گئی ہے۔زبان کا اگلا حصہ،زبان کا پچھلا حصہ اور زبان کا درمیانی حصہ۔کسی مصوتے کی مخصوص آواز کے پیچھے زبان کے کس حصہ کا اہم رول ہے اسی بنیاد پر اس مصوتے کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
اگلے مصوتے :جن مصوتوں کی ادائیگی میں زبان کا اگلا حصہ انہیں ایک مخصوص شکل (آواز) دیتا ہےاگلے مصوتے کہلاتے ہیں۔ مثلاً ’’ای‘‘، ’’اے‘‘، ’’او‘‘ ۔
درمیانی مصوتے : وہ مصوتے جن کی ادائیگی میں زبان کا درمیانی حصہ اہم رول ادا کرتا ہے درمیانی مصوتے کہلاتے ہیں ۔ مثال ’’ا‘‘۔
پچھلے مصوتے :جن مصوتوں کی ادائیگی میں زبان کا پچھلا حصہ معاون ہوتا ہے انہیں پچھلے مصوتے کہتے ہیں۔مثال ’آ‘ اور ’اوُ‘۔
(ب) زبان کی اونچائی کی بنیاد پر درجہ بندی :مصوتوں کی ادائیگی کے دوران مصوتوں کی آواز کو ایک مخصوص شکل دینے کے لئے زبان کا کوئی مخصوص حصہ اوپر یا نیچے کی جانب حرکت کرتا ہے جس کی بنیاد پر ان مصوتوں کی درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
بالائی مصوتے :جب مصوتوں کی ادائیگی کے دوران زبان کا کوئی حصہ اوپر کی جانب حرکت کرتا ہے تو ایسے مصوتوں کو بالائی مصوتے کہتے ہیں۔ مثلاً ’ای‘ اور ’او‘ ۔ جب ’ای‘ کا تلفظ کیا جاتا ہے تو زبان کا اگلا حصہ اوپر کی جانب اٹھتا ہے لہٰذا اسے اگلا بالائی مصوتہ کہتے ہیں جبکہ ’او‘ کے تلفظ کے دوران زبان کا پچھلا حصہ اوپر کی جانب اٹھتا ہے اس لئے اسے پچھلا بالائی مصوتہ کہتے ہیں۔
وسطی مصوتے :جب کسی مصوتے کی ادائیگی کے دوران زبان کا کوئی مخصوص حصہ درمیانی سطح پر رہتا ہے تو ایسے مصوتوں کو وسطی مصوتے کہتے ہیں۔مثال ’اے‘ اور ’او ‘۔
نچلے مصوتے :میں زبان کا پچھلا حصہ نیچے کی جانب جھک جاتا ہے۔ وہ مصوتے جن کی ادائیگی میں زبان کا کوئی مخصوص حصہ نیچے کی جانب جھک جاتا ہے تو اسے نچلا مصوتہ کہتے ہیں۔ مثال ’آ‘‘ ارو میں ’آ‘ پچھلا نچلا مصوتہ ہے کیونکہ اس کے تلفظ
سمعی صوتیات
Acoustic phonetic
دوسرے مرحلے میں یہی اصوات ہوائوں کےہوا کے ذریعہ سننے والے کے کانوں تک پہونچتی ہیں اور کانوں میں لگی جھلّی میں ارتعاش پیدا کرتی ہیں جس کے ذریعہ سےصوتی پیغام کی دماغ تک رسائی ہوتی ہے۔ متکلم اور سامع کے درمیان کے فاصلے کو ہوا کی مدد سے پورا کرنے کے اس عمل کے مطالعہ کو سمعی صوتیات کہتے ہیں۔
سمعیاتی صوتیات
Auditory phonetic
آوازیں متکلم کے منھ سے نکل کر ہوائوں کے ذریعہ سامع کے کانوں تک پہنچتی ہیں اور دماغ اس کی توضیح کرتا ہے۔ سمعیاتی صوتیات کا تعلق سننے اور آوازوں کے سمجھنے سے ہے ۔ یعنی سمعیاتی صوتیات کی مدد سے یہ سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سنی گئی آوازیں سامع کے ذہن کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔
ک کھ گ گھ کی آوازیں پیدا کرتا ہے ۔ زبان کا پچھلا حصہ کوّا یا لہات کے ساتھ مل کر ’’ق‘‘ کی آواز پیدا کرتا ہے۔ اسی لئے اس آواز کو لہاتی آواز کہتے ہیں۔
نچلا ہونٹ : نچلا ہونٹ دو مقام تلفظ ، اوپری ہونٹ اور اوپری دانت کے قریب جاکر آوازوں کی ادائیگی کا سبب بنتا ہے۔ جب نچلا ہونٹ اوپری ہونٹ کے ساتھ مل کر آوازوں کی ادائیگی کرتا ہے تو ایسی آوازوں کو دو لبی آوازیں کہتے ہیں۔ اس کی مثال درج ذیل ہے۔
پ پھ ب بھ جب نچلا ہونٹ اوہری دانت کے ساتھ مل کر آوازوں کی ادئیگی کا سبب بنتا ہے تو ایسی آوازیں لب دنتی آوازیں کہلاتی ہیں مثلاً
ف اور د
\
جامد تلفظ کار یعنی نقطہ تلفظ ، مقام تلفظ : تلفظ کار اعضا یعنی زبان اور نچلا ہونٹ جب جامد تلفظ کار یعنی ایسے اعضا یا مقامات پر جاکر ہوا میں رکاوٹ ڈالتے ہیں جو کہ متحرک نہیں ہوتے ہیں بلکہ جامد ہوتے ہیں تو آوازیں پیدا ہوتی ہیں۔ جامد تلفظ کار یعنی جامد اعضا کی مدد کے بغیر آوازوں کا پیدا ہونا ناممکن ہے لہٰذا ایسے جامد اعضا کو نقظہ تلفظ یا مقام تلفظ کہتے ہیںجیسے اوپری دانت، اوپری ہونٹ، تالو ، لہات اورصوت تانت وغیرہ ۔ تلفظ کار، نقطہ تلفظ اور ان سے پیدا ہونے والی آوازوں کی وضاحت مندرجہ ذیل ٹیبل کے مطالعہ سے ممکن ہے۔
تلفظ کار + مقام تلفظ - آواز کا نام آوازیں
نچلا ہونٹ + اوپری ہونٹ - دو لبی آوازیں ب
،پنچلا ہونٹ + اوپری دانت - لب دنتی آوازیں ف،د
زبان کی نوک + اوپری ہونٹ - دنتی آوازیں ت،د
زبان کی نوک + اوپری مسوڑھا - لثائی آوازیں ن،س،ر
زبان کی نوک + سخت تالو - معکوسی آوازیں ٹ، ڈ
زبان کا پھل + سخت تالو - تالوئی آوازیں ج،چ
زبان کا پچھلا حصہ + نرم تالو - غشائی آوازیں ک،گ
زبان کا پچھلا حصہ + لہات یا کوّا - لہاتی آوازیں ق
صوت تانت + صوت تانت - حلقی آوایں ہ، ح
نچلا ہونٹ + اوپری ہونٹ - دو لبی آوازیں ب
مصوتے :وہ آوازیں جن کی ادائیگی کے دوران منہ کے اندر کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آتی ہے بلکہ صوت تانت میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ آوازیں وجود میں آتی ہیں یا یوں کہا جائے کہ یہ آوازیںمسموع ہو جاتی ہیں مصوتے کہلاتے ہیں۔ اردو میں ’’ا‘‘، ’’ی‘‘ اور ’’و‘‘ کی آوازیں مصوتوں کی مثال ہے۔
مسموع مصوتے : اردو کے تمام مصوتے مسموع ہیں ۔
مصوتوں کی درجہ بندی :مصوتوں کا تلفظ صوت تانت کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن زبان اور ہونٹوں کی حرکتیں انہیں مختلف شکل دینے میں معاون ہوتی ہیں۔ زبان اور ہونٹوں کی حرکت کی وجہ سے ہی مصوتوں کی متفرق شکلیں (آوازیں) وجود پاتی ہیں۔ اسی لئے مصوتوں کی درجہ بندی چار بنیادوں پر کی گئی ہے۔
الف) زبان کا حصہ
ب) زبان کی اونچائی
ج) ہونٹوں کی گولائی
د) طول
الف) لزبان کے حصے کی بنیا پر درجہ بندی زبان کے حصے کی بنیاد پر مصوتوں کی درجہ بندی زبان کو تین حصوں میں تقسیم کرے کی گئی ہے۔زبان کا اگلا حصہ،زبان کا پچھلا حصہ اور زبان کا درمیانی حصہ۔کسی مصوتے کی مخصوص آواز کے پیچھے زبان کے کس حصہ کا اہم رول ہے اسی بنیاد پر اس مصوتے کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
اگلے مصوتے :جن مصوتوں کی ادائیگی میں زبان کا اگلا حصہ انہیں ایک مخصوص شکل (آواز) دیتا ہےاگلے مصوتے کہلاتے ہیں۔ مثلاً ’’ای‘‘، ’’اے‘‘، ’’او‘‘ ۔
درمیانی مصوتے : وہ مصوتے جن کی ادائیگی میں زبان کا درمیانی حصہ اہم رول ادا کرتا ہے درمیانی مصوتے کہلاتے ہیں ۔ مثال ’’ا‘‘۔
پچھلے مصوتے :جن مصوتوں کی ادائیگی میں زبان کا پچھلا حصہ معاون ہوتا ہے انہیں پچھلے مصوتے کہتے ہیں۔مثال ’آ‘ اور ’اوُ‘۔
(ب) زبان کی اونچائی کی بنیاد پر درجہ بندی :مصوتوں کی ادائیگی کے دوران مصوتوں کی آواز کو ایک مخصوص شکل دینے کے لئے زبان کا کوئی مخصوص حصہ اوپر یا نیچے کی جانب حرکت کرتا ہے جس کی بنیاد پر ان مصوتوں کی درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
بالائی مصوتے :جب مصوتوں کی ادائیگی کے دوران زبان کا کوئی حصہ اوپر کی جانب حرکت کرتا ہے تو ایسے مصوتوں کو بالائی مصوتے کہتے ہیں۔ مثلاً ’ای‘ اور ’او‘ ۔ جب ’ای‘ کا تلفظ کیا جاتا ہے تو زبان کا اگلا حصہ اوپر کی جانب اٹھتا ہے لہٰذا اسے اگلا بالائی مصوتہ کہتے ہیں جبکہ ’او‘ کے تلفظ کے دوران زبان کا پچھلا حصہ اوپر کی جانب اٹھتا ہے اس لئے اسے پچھلا بالائی مصوتہ کہتے ہیں۔
وسطی مصوتے :جب کسی مصوتے کی ادائیگی کے دوران زبان کا کوئی مخصوص حصہ درمیانی سطح پر رہتا ہے تو ایسے مصوتوں کو وسطی مصوتے کہتے ہیں۔مثال ’اے‘ اور ’او ‘۔
نچلے مصوتے :میں زبان کا پچھلا حصہ نیچے کی جانب جھک جاتا ہے۔ وہ مصوتے جن کی ادائیگی میں زبان کا کوئی مخصوص حصہ نیچے کی جانب جھک جاتا ہے تو اسے نچلا مصوتہ کہتے ہیں۔ مثال ’آ‘‘ ارو میں ’آ‘ پچھلا نچلا مصوتہ ہے کیونکہ اس کے تلفظ
سمعی صوتیات
Acoustic phonetic
دوسرے مرحلے میں یہی اصوات ہوائوں کےہوا کے ذریعہ سننے والے کے کانوں تک پہونچتی ہیں اور کانوں میں لگی جھلّی میں ارتعاش پیدا کرتی ہیں جس کے ذریعہ سےصوتی پیغام کی دماغ تک رسائی ہوتی ہے۔ متکلم اور سامع کے درمیان کے فاصلے کو ہوا کی مدد سے پورا کرنے کے اس عمل کے مطالعہ کو سمعی صوتیات کہتے ہیں۔
سمعیاتی صوتیات
Auditory phonetic
آوازیں متکلم کے منھ سے نکل کر ہوائوں کے ذریعہ سامع کے کانوں تک پہنچتی ہیں اور دماغ اس کی توضیح کرتا ہے۔ سمعیاتی صوتیات کا تعلق سننے اور آوازوں کے سمجھنے سے ہے ۔ یعنی سمعیاتی صوتیات کی مدد سے یہ سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سنی گئی آوازیں سامع کے ذہن کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔
تلفظ کار + مقام تلفظ - آواز کا نام آوازیں
نچلا ہونٹ + اوپری ہونٹ - دو لبی آوازیں ب
،پنچلا ہونٹ + اوپری دانت - لب دنتی آوازیں ف،د
زبان کی نوک + اوپری ہونٹ - دنتی آوازیں ت،د
زبان کی نوک + اوپری مسوڑھا - لثائی آوازیں ن،س،ر
زبان کی نوک + سخت تالو - معکوسی آوازیں ٹ، ڈ
زبان کا پھل + سخت تالو - تالوئی آوازیں ج،چ
زبان کا پچھلا حصہ + نرم تالو - غشائی آوازیں ک،گ
زبان کا پچھلا حصہ + لہات یا کوّا - لہاتی آوازیں ق
صوت تانت + صوت تانت - حلقی آوایں ہ، ح
نچلا ہونٹ + اوپری ہونٹ - دو لبی آوازیں ب
مصوتے :وہ آوازیں جن کی ادائیگی کے دوران منہ کے اندر کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آتی ہے بلکہ صوت تانت میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ آوازیں وجود میں آتی ہیں یا یوں کہا جائے کہ یہ آوازیںمسموع ہو جاتی ہیں مصوتے کہلاتے ہیں۔ اردو میں ’’ا‘‘، ’’ی‘‘ اور ’’و‘‘ کی آوازیں مصوتوں کی مثال ہے۔
مسموع مصوتے : اردو کے تمام مصوتے مسموع ہیں ۔
مصوتوں کی درجہ بندی :مصوتوں کا تلفظ صوت تانت کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن زبان اور ہونٹوں کی حرکتیں انہیں مختلف شکل دینے میں معاون ہوتی ہیں۔ زبان اور ہونٹوں کی حرکت کی وجہ سے ہی مصوتوں کی متفرق شکلیں (آوازیں) وجود پاتی ہیں۔ اسی لئے مصوتوں کی درجہ بندی چار بنیادوں پر کی گئی ہے۔
الف) زبان کا حصہ
ب) زبان کی اونچائی
ج) ہونٹوں کی گولائی
د) طول
الف) لزبان کے حصے کی بنیا پر درجہ بندی زبان کے حصے کی بنیاد پر مصوتوں کی درجہ بندی زبان کو تین حصوں میں تقسیم کرے کی گئی ہے۔زبان کا اگلا حصہ،زبان کا پچھلا حصہ اور زبان کا درمیانی حصہ۔کسی مصوتے کی مخصوص آواز کے پیچھے زبان کے کس حصہ کا اہم رول ہے اسی بنیاد پر اس مصوتے کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
اگلے مصوتے :جن مصوتوں کی ادائیگی میں زبان کا اگلا حصہ انہیں ایک مخصوص شکل (آواز) دیتا ہےاگلے مصوتے کہلاتے ہیں۔ مثلاً ’’ای‘‘، ’’اے‘‘، ’’او‘‘ ۔
درمیانی مصوتے : وہ مصوتے جن کی ادائیگی میں زبان کا درمیانی حصہ اہم رول ادا کرتا ہے درمیانی مصوتے کہلاتے ہیں ۔ مثال ’’ا‘‘۔
پچھلے مصوتے :جن مصوتوں کی ادائیگی میں زبان کا پچھلا حصہ معاون ہوتا ہے انہیں پچھلے مصوتے کہتے ہیں۔مثال ’آ‘ اور ’اوُ‘۔
(ب) زبان کی اونچائی کی بنیاد پر درجہ بندی :مصوتوں کی ادائیگی کے دوران مصوتوں کی آواز کو ایک مخصوص شکل دینے کے لئے زبان کا کوئی مخصوص حصہ اوپر یا نیچے کی جانب حرکت کرتا ہے جس کی بنیاد پر ان مصوتوں کی درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
بالائی مصوتے :جب مصوتوں کی ادائیگی کے دوران زبان کا کوئی حصہ اوپر کی جانب حرکت کرتا ہے تو ایسے مصوتوں کو بالائی مصوتے کہتے ہیں۔ مثلاً ’ای‘ اور ’او‘ ۔ جب ’ای‘ کا تلفظ کیا جاتا ہے تو زبان کا اگلا حصہ اوپر کی جانب اٹھتا ہے لہٰذا اسے اگلا بالائی مصوتہ کہتے ہیں جبکہ ’او‘ کے تلفظ کے دوران زبان کا پچھلا حصہ اوپر کی جانب اٹھتا ہے اس لئے اسے پچھلا بالائی مصوتہ کہتے ہیں۔
وسطی مصوتے :جب کسی مصوتے کی ادائیگی کے دوران زبان کا کوئی مخصوص حصہ درمیانی سطح پر رہتا ہے تو ایسے مصوتوں کو وسطی مصوتے کہتے ہیں۔مثال ’اے‘ اور ’او ‘۔
نچلے مصوتے :میں زبان کا پچھلا حصہ نیچے کی جانب جھک جاتا ہے۔ وہ مصوتے جن کی ادائیگی میں زبان کا کوئی مخصوص حصہ نیچے کی جانب جھک جاتا ہے تو اسے نچلا مصوتہ کہتے ہیں۔ مثال ’آ‘‘ ارو میں ’آ‘ پچھلا نچلا مصوتہ ہے کیونکہ اس کے تلفظ




